سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہونے والی خاتون کے شوہر پر تشدد کے الزم میں ایس پی سٹی اور ایس ایچ او کو ملزم قرار دے دیا گیا
پولیس کی انکوائری رپورٹ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پولیس کی انکوائری رپورٹ میں ایس پی سٹی بلال اور ایس ایچ او بھاٹی زین کو سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہونے والی خاتون کے شوہر پر تشدد کا ملزم قرار دے دیا گیا۔ یہ انکوائری رپورٹ ایڈیشنل آئی جی عمران محمود، ڈی آئی جی ناصر عزیز ورک اور ڈی آئی جی عمران کشور پر مشتمل انکوائری کمیٹی نے تیار کی۔
یہ بھی پڑھیں: کوئی ہو یا نہ ہو ،26 ویں آئینی ترمیم پاس ہو جائے گی: فیصل واوڈا
پولیس کی کارروائی
رپورٹ میں کہا گیا کہ ایس پی اور ایس ایچ او خاتون کے شوہر غلام مرتضیٰ کو موقع سے تھانہ بھاٹی لے گئے، انہوں نے غلام مرتضیٰ کے ساتھ آنے والے دیگر رشتے داروں سے پوچھ گچھ کرنے کے بجائے فوراً جاں بحق ہونے والی لڑکی کے والد کو فون کر دیا۔ رپورٹ کے مطابق ملزم پولیس آفیسرز نے غلام مرتضیٰ کے ساتھ آنے والے ایک رشتے دار تنویر کو بھی تھانے میں بٹھا لیا، دونوں پولیس آفیسرز غلام مرتضیٰ پر ایس ایچ او کے کمرے میں تشدد کرتے رہے۔ ایس ایچ او کے کمرے میں نصب کیمرے کی ویڈیو سے بھی شہادت حاصل کر لی گئی، غلام مرتضیٰ کو پونے 5 گھنٹے غیر قانونی حراست میں رکھا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: اڈیالہ جیل کے باہر سے گرفتار ہونیوالے پی ٹی آئی رہنماؤں کو رہا کردیا گیا
غلام مرتضیٰ کا بیان
غلام مرتضیٰ نے انکوائری ٹیم کو بیان دیا کہ پولیس آفیسرز بیوی اور بیٹی کو قتل کرنے کا الزام قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالتے رہے۔ ملزم پولیس آفیسرز نے بیان دیا کہ انہیں ریسکیو اور دیگر اداروں نے کہا تھا کہ یہاں خاتون کا ڈوبنا ممکن نہیں، اس لیے شبے میں غلام مرتضیٰ کو تھانے لے گئے۔
انکوائری کی سفارشات
انکوائری رپورٹ کے مطابق دونوں پولیس آفیسرز نے واقعے کو غیر پیشہ ورانہ طریقے سے مس ہینڈل کیا، اس لیے دونوں پولیس آفیسرز کے خلاف محکمانہ کارروائی کی سفارش کی جاتی ہے۔ یہ انکوائری رپورٹ آئی جی پنجاب کو پیش کر دی گئی ہے جسے آئی جی وزیراعلیٰ کو پیش کریں گے۔








