لاہور ہائی کورٹ نے 9 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کے کیس میں 2 مرتبہ بری ہونے والے مجرم کو عمر قید سنا دی
عدالت کا فیصلہ
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی ڈویژن بینچ نے 9 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کیس میں 2 مرتبہ بری قرار دیئے گئے مجرم کو عمر قید کی سزا سناتے ہوئے عدالت میں ہی ہتھکڑی لگوا دی۔
یہ بھی پڑھیں: چین کے زرعی سائنسی شہر یانگ لنگ میں 300 کے قریب پاکستانی گریجویٹس کا خیرمقدم
مجرم کی بریت کا منسوخ ہونا
24نیوز کے مطابق اس سے پہلے ہائی کورٹ نے مظلوم بچی کی بیوہ والدہ کی پیٹیشن پر سماعت کرتے ہوئے سیشن عدالت کے مجرم کو بری کرنے کا حکم منسوخ کر کے کیس کی دوبارہ سماعت کرنے کا حکم دیا تھا۔ سیشن جج نے دوبارہ سماعت کی تو اس مجرم کو پھر بری کر دیا۔ اس مرتبہ عدالت عالیہ نے خود عمر قید کی سزا سنائی۔ ہائی کورٹ نے بریت کا فیصلہ منسوخ کر کے واپس بھیجا تو ہائی کورٹ نے متاثرہ طالبہ کی بیوہ ماں کی سزا دینے کی اپیل منظور کر لی۔
یہ بھی پڑھیں: پاک فوج بلوچستان کے عوام کے شانہ بشانہ ہے، امن اور ترقی کی کوششوں میں بھرپور ساتھ دیتی رہے گی: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
مجرم کی سزا اور گرفتاری
مجرم اعظم خان کو عمر قید کے ساتھ 4 لاکھ روپے ہرجانہ کی سزا بھی سنائی گئی۔ پولیس نے فیصلہ ہوتے ہی مجرم کو گرفتار کر کے ہتھکڑیاں لگا دیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرانسپورٹرز پر جرمانے زیادہ ہیں، ایف آئی آرز ختم کروا دیں : وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر
سیشن جج کی دو بار بریت
راولپنڈی کے ایڈیشنل سیشن جج نے مجرم اعظم کو 2 مرتبہ بری کیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ کے مشہور ترین گلوکار بریٹ جیمز فیملی سمیت طیارہ حادثے میں ہلاک
ہائی کورٹ کا حساس معاملے پر فیصلہ
آج فیصلہ سناتے ہوئے ہائی کورٹ کے جج نے قرار دیا کہ بیٹیوں کے معاملات حساس ہوتے ہیں۔ اس کیس میں میڈیکل بورڈ کی جانب سے زیادتی ہونے کی تصدیق بڑا ثبوت تھی۔
پولیس کی جانب سے مقدمہ درج
تھانہ وارث خان پولیس نے ستمبر 2023 میں اس بچی کے ساتھ ریپ کا مقدمہ درج کیا تھا۔ گلاس فیکٹری کی رہائشی طالبہ ایمان فاطمہ سے جبری زیادتی کی گئی تھی۔ بیوہ والدہ نادیہ بی بی نے بری کرنے کے فیصلوں کے خلاف ہار نہیں مانی اور بے وسیلہ ہونے کے باوجود سیشن جج کے فیصلوں کے خلاف 2 بار ہائی کورٹ میں اپیل کی۔








