ایران کی بندر عباس پر دھماکہ
دھماکے کی تفصیلات
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران کے جنوبی ساحلی شہر بندر عباس میں ہفتے کے روز ہونے والے ایک دھماکے میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور 14 افراد زخمی ہو گئے۔ ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق مقامی حکام نے ہلاکت اور زخمیوں کی تصدیق کی ہے، تاہم دھماکے کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی۔
یہ بھی پڑھیں: نیپرا کے ممبر مطہر رانا کا استعفیٰ منظور
دھماکے کے پس منظر میں شکوک
نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں کو ’’مکمل طور پر بے بنیاد‘‘ قرار دیا ہے جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دھماکے میں پاسدارانِ انقلاب کے بحری کمانڈر کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: دل کی بیماریوں سے بچاؤ اور صحت مند دل کے لئے شعور اور آگاہی اجاگر کرنے کی ضرورت ہے، وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال
اہواز میں علیحدہ واقعہ
دوسری جانب، ایران کے شہر اہواز میں گیس دھماکے کے ایک الگ واقعے میں چار افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ سرکاری اخبار تہران ٹائمز کے مطابق یہ دھماکہ عراقی سرحد کے قریب پیش آیا، تاہم اس واقعے کی تفصیلات بھی فوری طور پر دستیاب نہیں ہو سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: چینی کی درآمد پر ٹیکس چھوٹ، 7 ارب ڈالر قرض پروگرام متاثر ہونے کا خدشہ
اسرائیل کا کردار
ادھر اسرائیل کے دو حکام نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ ہفتے کے روز ہونے والے ان دھماکوں میں اسرائیل کا کوئی کردار نہیں۔ یہ واقعات ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کی وجوہات میں ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف کارروائیاں اور جوہری پروگرام شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاڑکانہ، سفاک ماں نے 4 سالہ بیٹی کو قتل کر ڈالا، ملزمہ گرفتار
امریکی محکمہ دفاع کی خاموشی
امریکی محکمہ دفاع، پینٹاگون، نے اس معاملے پر فوری طور پر کسی تبصرے سے گریز کیا ہے۔ اس سے قبل 22 جنوری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایک ’’بحری بیڑا‘‘ ایران کی جانب روانہ کیا جا رہا ہے۔ متعدد ذرائع کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایران کے خلاف مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے، جن میں سکیورٹی فورسز پر محدود اور ہدفی حملے بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: رات کے آخری پہر “وسل” بجنے کی بڑی دیر تک آواز آتی رہی،نیند نے اٹھنے نہ دیا، جسموں سے جان ہی نکل گئی تھی یہ حماقت جان لیوا بھی ہو سکتی تھی
بندر عباس کی اہمیت
بندر عباس ایران کی سب سے اہم کنٹینر بندرگاہ ہے اور آبنائے ہرمز پر واقع ہے، جو ایران اور عمان کے درمیان ایک انتہائی اہم آبی گزرگاہ ہے۔ اس راستے سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد سمندری تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ گزشتہ سال اپریل میں بھی اسی بندرگاہ پر ایک بڑا دھماکہ ہوا تھا جس میں درجنوں افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ اس واقعے کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی نے اس وقت دھماکے کی ذمہ داری سول ڈیفنس اور سکیورٹی اصولوں پر عملدرآمد میں کوتاہی کو قرار دیا تھا.
احتجاجی مظاہرے
ایران گزشتہ دسمبر سے ملک گیر احتجاجی مظاہروں کی لپیٹ میں ہے جو مہنگائی اور معاشی بدحالی کے خلاف شروع ہوئے تھے اور جنہوں نے ملک کی مذہبی قیادت کے لیے ایک بڑا چیلنج پیدا کر دیا۔ ایک ایرانی عہدیدار کے مطابق ان مظاہروں کے دوران اب تک کم از کم پانچ ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سکیورٹی فورسز کے تقریباً 500 اہلکار بھی شامل ہیں۔








