بچی کے ساتھ زیادتی؛ دو مرتبہ بری ہونے والے مجرم کو اپیل میں عمر قید کی سزا
حفاظت اور انصاف کے سفر
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) سیسن جج نے بچی کے ساتھ زیادتی کے مجرم کو دو مرتبہ بری کیا، بیوہ ماں کی دوسری مرتبہ پیٹیشن پر لاہور ہائی کورٹ نے خود مجرم کیلئے عمر قید کی سزا لکھ دی۔
یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف کا آئینی ترامیم کو عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ
عدالتی کارروائی اور فیصلے
لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی ڈویژن بینچ نے 9 سالہ بچی کے ریپ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے زیادتی کے دو مرتبہ بری قرار دیئے گئے مجرم کو بری کرنے کا زیریں عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے، مجرم کو عمر قید کی سزا دے دی اور اسے عدالت میں ہی ہتھکڑی لگوا دی۔
یہ بھی پڑھیں: انارکلی کی تاریخی نیلا گنبد والی جگہ پر پنجاب حکومت کا بڑا اقدام، سائیکل مارکیٹ ختم ، خوبصورت پارک اور پارکنگ پلازہ بنایا جائے گا
ایڈیشنل سیشن جج کی رہنمائی
اس سے پہلے ہائی کورٹ نے مظلوم بچی کی بیوہ والدہ کی پیٹیشن پر سماعت کر کے سیشن عدالے کے مجرم کو بری کرنے کا حکم منسوخ کر کے کیس کی دوبارہ سماعت کرنے کا حکم دیا تھا۔ سیشن جج نے دوبارہ سماعت کی تو اس مجرم کو پھر بری کر دیا۔ اس مرتبہ عدالت عالیہ نے خود عمر قید سزا سنا دی، ہائی کورٹ نے بریت کا فیصلہ منسوخ کر کے واپس بھیجا تو ہائی کورٹ نے متاثرہ طالبہ کی بیوہ ماں کی سزا دینے کی اپیل منظور کر لی۔ مجرم اعظم خان کو عمر قید کے ساتھ 4 لاکھ روپے ہرجانہ کی بھی سزا سنائی۔ پولیس نے فیصلہ ہوتے مجرم کو گرفتار کر کے ہتھکڑیاں لگا دیں۔
شهادت کا وزن
راولپنڈی کے ایڈیشنل سیشن جج راولپنڈی نے اس مجرم اعظم کو 2 مرتبہ بری کیا۔ آج فیصلہ سناتے ہوئے ہائی کورٹ کے جج نے قرار دیا کہ بیٹیوں کے معاملات حساس ہوتے ہیں۔ اس کیس میں میڈیکل بورڈ کی جانب سے زیادتی ہونے کی تصدیق بڑا ثبوت تھی۔ تھانہ وارث خان پولیس نے ستمبر 2023 میں اس بچی کے ساتھ ریپ کا مقدمہ درج کیا تھا۔ گلاس فیکٹری کی رہائشی طالبہ ایمان فاطمہ سے جبری زیادتی کی گئی تھی۔ بیوہ والدہ نادیہ بی بی نے بری کرنے کے فیصلوں سے ہار نہیں مانی اور بے وسیلہ ہونے کے باوجود سیشن جج کے فیصلوں کے خلاف 2 بار ہائی کورٹ میں اپیل کی۔ آج مجرم کو کیفر کردار تک پہنچانے والا عدالتِ عالیہ کا ڈویزن بنچ جسٹس صداقت علی خان اور جسٹس طارق باجوہ پر مشتمل تھا۔








