ترقی ہمارا خواب ہی رہی، کسی دانا نے کہا تھا “محکوم قوموں کے جانور بھی محکوم ہوتے ہیں” گاڑی درگاہ کی جانب گھمائی، بھیڑ والے مین بازار سے گزرے۔
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 425
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کا ساتھ دینے پر آئی سی سی نے پاکستان کو تنہائی کی دھمکی دیدی، بھارتی میڈیا کا دعویٰ
اقتدار کے چار لوگ
اس ملک میں اقتدار میں چار طرح کے لوگ ہیں: پراپرٹی ڈیلر، بزنس مین، کاروباری حضرات، اور بڑے زمیندار/وڈیرے، بیوروکریسی اور چلتی پھرتی دلفریب اداؤں کی مالک حسینائیں۔ یہ سب اقتدار کے ایوانوں میں جب چاہیں ہلچل مچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور دل کے ویرانوں میں منگل کر دیتے ہیں۔
بدقسمتی سے 75 سال کی تاریخ میں ترقی ہمارا خواب ہی رہی۔ ہم سے زیادہ پس ماندہ ممالک ہم سے آگے نکل چکے ہیں۔ منہ زور بیوروکریسی کے گٹھ جوڑ کو توڑنا خواب ہی رہا۔ جس نے بھی لڑنے کی کوشش کی وہ مارا گیا یا ہٹا دیا گیا۔ کوئی تختہ دار پر چڑھ گیا تو کوئی رل گیا۔ خودداری، غیرت، اور عزت کا مطلب جاننے والوں کی یہاں ضرورت نہیں۔ ہمارے تو جانور بھی محکوم ہو چکے ہیں۔ کسی دانا نے کہا تھا؛ “محکوم قوموں کے جانور بھی محکوم ہوتے ہیں۔” اس معاشرے کو ضرورت ہے چاپلوس حکمرانوں کی، مطلب پرستوں کی، اور عیار سیاست دانوں کی۔ بدقسمتی! یہاں یہ سب بکثرت موجود ہیں۔ کیا ایسا نہیں ہے؟
یہ بھی پڑھیں: توشہ خانہ ٹو کیس؛ عمران خان، بشریٰ بی بی کی بریت کی درخواستیں سماعت کیلیے مقرر کرنیکا حکم
درگاہ حضرت محکم الدین سرانیؒ
ایک روز میں اور خورشید صاحب خانقاہ شریف سے گزر رہے تھے کہ وہ بولے؛ “سر! یہاں ایک بڑے بزرگ حضرت محکم الدین سرانیؒ کی درگاہ ہے۔ بڑی ہستی تھی سرکار کی۔” گاڑی درگاہ کی جانب گھمائی۔ بھیڑ والے مین بازار سے گزر کر مزار پر پہنچے۔ فاتحہ پڑھی اور واپس ہو لئے۔ نواز کہنے لگا؛ “سر! اس طرف سے چلتے ہیں، رش نہیں ہو گا۔” مزار سے ملحق ایک بڑی سی ڈیوڑھی میں داخل ہوئے۔
وہاں پر بنیان اور دھوتی پہنے ایک شخص نے آواز دی؛ “جناب! چائے کا کپ پیتے جائیں۔” میں نے چلتے ہی جواب دیا؛ “میں چائے نہیں پیتا۔” آواز دی؛ “میں بھی ہر کسی کو چائے نہیں پلاتا۔” اس فقرے نے میرے بڑھتے قدم روک لئے۔ سلام دعا کے بعد انہوں نے ہمیں برآمدے میں بچھی چارپائیوں پر بیٹھنے کا کہا اور خود چائے بنانے لگے۔ تھوڑی ہی دیر میں خوشبو بکھیرتی مزےدار چائے کے ساتھ برآمد ہوئے۔ پلیٹس میں بسکٹ بھی تھے۔
چائے میرے ہاتھ میں تھماتے بولے؛ “میرا نام عمر ہے۔ کراچی رہتا ہوں اور تعلق میمن برادری سے ہے۔ حضرت محکم الدین سرانیؒ کو ہم میمن اپنا مرشد مانتے ہیں۔ ان کے مزار کے سارے انتظامات برادری کی طرف سے میرے ذمہ ہیں۔ میرا ہر تین چار ماہ بعد یہاں کا چکر لگتا ہے۔ آپ مجھے اچھے لگے اس لئے چائے پر بلا لیا۔ حضرت کا ایک مزار یہاں ہے اور ایک پانی پت "سرن" کے مقام پر۔ روایت کے مطابق، آپ کہاں دفن ہیں کوئی نہیں جانتا۔ آپ نے چائے قبول کی، آپ کا شکریہ۔” کہنے لگے؛ “میں بریانی بھی کمال بناتا ہوں۔ کسی دن آپ کو دعوت پر بلاؤں گا۔” میں ان کی چائے کا شکریہ ادا کر کے چلا آیا۔ چائے ختم ہو چکی تھی اور ان سے نہ ختم ہونے والی شناسائی شروع ہوئی۔ (جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب “بک ہوم” نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








