کالج میں داخلہ بڑا جان جوکھوں کا کام تھا، کوئی سڑک نہ تھی جس پر کوئی بس چلے، ریل گاڑیاں مہاجرین کی آباد کاری میں اب تک مصروفِ کار تھیں

سفر کی داستان

قسط:44
20 کلو میٹر کا سائیکل پر سفر کر کے چک جُھمرہ پہنچے تو میں اُسے لے کر تحصیلدار صاحب کے ہاں پیش ہوگیا۔ تحصیلدار صاحب کو اُس کے ساتھ ہونے والی زیادتی اور اپنی 30 کلو میٹر سفر کی رام کہانی سنائی تو وہ متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ مجھے کرسی پیش کی اور کہنے لگے کہ میں چند دن میں اس عورت کے گاؤں کے دَورے پر آؤں گا۔ اور وہاں اس کی داد رسی ہوجائے گی۔ میں نے تحصیلدار صاحب کا شکریہ ادا کیا اور اب پھر مجھے اسی راستے سے واپس سفر کر کے 10 کلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے پہنچنا تھا۔ چنانچہ انہیں سائیکل پر بٹھا کر قدرے آہستہ آہستہ ”گٹی“ کی طرف واپسی ہوئی جہاں سے صبح روانہ ہوئے تھے۔ جب 10 کلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے ”گٹی“ پہنچے تو کہنے لگیں کہ اگر میں اب سیدھی گھر پہنچی تو میرا دیور مجھ سے پوچھے گا میں سارا دن گزار کر کہاں سے آئی ہوں اور امکان غالب ہے کہ میری خوب پٹائی ہوگی۔ لہٰذا آخری گذارش ہے کہ مجھے یہاں سے 3 کلو میٹر پر واقع گاؤں جہاں میرے رشتہ دار رہائش پذیر ہیں وہاں چھوڑ دیں۔

یہ بھی پڑھیں: انگریزوں کے زمانے میں چھانگا مانگاکا مصنوعی جنگل اور سیاحوں کے لیے ریل گاڑی

خاندان کی مشکلات

اپنے آپ کو بالکل بند گلی میں پا کر اُن کو سائیکل پر سوار کر کے 3 کلو میٹر کا فاصلہ مزید بھی طے کیا۔ علیک سلیک کے بعد ساری رام کہانی بتائی تو صاحب خانہ محمد علی کچھ زیادہ ہی متاثر دکھائی دیا۔ فوراً گھر والی کو کھانا پکانے کا کہا اور کھانا بھی دیسی مرغی کا (ولایتی اُن دنوں تھی ہی نہیں) سالن روٹی اور زردہ…… پیٹ بھر کر کھانا کھایا اور محمد علی سے رخصت چاہی تو وہ بڑی ہی دردمندی سے کہنے لگے کہ ہماری رشتے داری کا معاملہ ہے۔ اگر ہم اپنے رشتے کی بہن کو یہاں رکھتے ہیں تو اس کے دیور اور دوسرے افراد خانہ سے کامل ناراضگی کا خدشہ ہے۔ لہٰذا بہتر ہے کہ آپ اسے اس کے گاؤں گٹیّ میں ہی چھوڑ جائیں اور آگے کی بات اللہ پر چھوڑ دیں۔ اب بتائیے کیا کرتا؟ اب پھر 3 کلو میٹر واپسی سفر کر کے ”گٹی“ پہنچے اور اُن کو اُن کے گھر کے سامنے اتارا، تو عشاء کی اذان ساتھ واقع مسجد میں ہور ہی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ فائنل ؛ ارشد ندیم نے پہلی تھرو 82.73 کی

کامیابی کی داستان

گھر پہنچا تو کافی سخت اور تُرش استقبالیہ سے واسطہ پڑا۔ حالات میں جب کچھ ٹھہراؤ آیا اور میں نے ساری رام کہانی سنائی تو والد صاحب کو میں نے بڑی دھیمی اور پُر اسرار ہنسی ہنستے دیکھا۔ اس کام کی انجام دہی میں 10 گھنٹے لگے اور کل ملا کر سائیکل پر سفر 46 کلو میٹر بنا۔

یہ بھی پڑھیں: اقلیتوں سے ناانصافی یا زیادتی پر قانون پوری قوت سے حرکت میں آئے گا: وزیراعظم

کالج میں داخلہ

ایک بڑا جان جوکھوں کا کام تھا۔ وہ اس طرح کہ میٹرک کا امتحان دینا تو اس لیے ضروری خیال کیا گیا کہ دو اڑھائی مہینے کی بات ہے۔ میٹرک کی منزل پا لی۔ لیکن کالج میں داخل ہو کر 4 سال ہوسٹل میں رہنا ایک ناقابل عمل تخیّل تھا۔ جو صرف تہی دست شاعروں کے دیس کی سوغات ہوتی ہے۔ چنانچہ مختلف زاویہ نگاہ سے اس کو دیکھا گیا۔ کوئی سڑک نہ تھی جس پر کوئی بس چلے اور فیصل آباد پہنچا دے۔ ریل گاڑیاں مہاجرین کی آبادکاری میں اب تک مصروفِ کار تھیں اور سائیکل لینے کی ابھی استطاعت نہ تھی۔ ”اب خود ہی بتائیں ساری جمع تفریق کے بعد باقی کیا بچا؟“ پیدل اور صرف پیدل، 8 کلو میٹر جانا اور 8 کلو میٹر آنا۔ چنانچہ اس پر سمجھوتہ ہوگیا اور گورنمنٹ کالج فیصل آباد میں ایف ایس سی نان میڈیکل میں داخلہ لے لیا۔

نوٹ

یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...