سانحہ داتا دربار، متاثرہ خاندان سے سادہ کاغذ پر انگوٹھے کس نے اور کیوں لگوائے؟
سانحہ داتا دربار: ایک قوم کا سوگ
لاہور (یاسر شامی سے) سانحہ داتا دربار نے پورے ملک کو سوگوار تو کیا ہی تھا لیکن انتظامیہ کے رویے نے پوری قوم کے زخموں پر جس طرح نمک پاشی کی وہ ناقابل بیان ہے۔ پولیس کے آپریشنز ونگ نے جس طرح معاملے کو ہینڈل کیا، متوفی خاتون کے شوہر کو تشدد کا نشانہ بنایا، وہ ہمارے تھانہ کلچر کی ایک بھاینک تصویر پیش کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے کوئی فیصلہ نہ کیا، یوں ایک اور عجوبہ لائن کا اختتام ہوا، جسے دیکھنے کے لیے غیر ملکی سیاح بھی یورپ اور امریکہ وغیرہ سے آتے رہے تھے۔
ویڈیو کی وائرلنگ اور پولیس کا بیان
ایسے میں ایک ویڈیو بھی وائرل ہوئی جس میں جاں بحق خاتون کے والد اور اہل خانہ سے سادہ کاغذ پر انگوٹھے لگوائے گئے۔ ویڈیو نے غم و غصے کو مزید ہوا دی لیکن پولیس نے جلد ہی اس کی وضاحت کی کہ مقدمے میں ایک شخص کا نام غلط لکھا گیا تھا جس کی درستگی کیلئے درخواست لکھنی تھی تو اسی پر انگوٹھے لگوائے گئے۔ اس وضاحت کے باوجود واقعے پر بہت سے سوالات موجود تھے جن کے جواب جاننے کیلئے اس نمائندے نے اس سٹوری پر کام کیا۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ بائی پاس سے ملنے والی نامعلوم لاش کا معمہ حل، قاتل بھی پکڑا گیا
انگوٹھے لگوانے کی حقیقت
سب سے پہلے تو یہ پتا چلا کہ یہ انگوٹھے پولیس کے انویسٹی گیشن ونگ کی طرف سے ڈیڈ ہاؤس میں لگوائے گئے ہیں۔ اگرچہ پولیس کا آفیشل بیان جاری ہوچکا تھا لیکن اس نمائندے نے تصدیق کیلئے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذیشان رضا سے رابطہ کیا تو پتا چلا کہ انگوٹھے واقعی سادہ کاغذ پر لگوائے گئے تھے اور ایک نہیں بلکہ پانچ کاغذوں پر لگے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت کا رواں مالی سال بھی کفایت شعاری کے اقدامات جاری رکھنے کا فیصلہ
کاغذوں کی نوعیت اور مقصد
ڈیڈ ہاؤس میں انگوٹھے جلد بازی میں لگوائے گئے تھے۔ خاندان پہلے ہی غم میں ڈوبا ہوا تھا تو انہیں قانونی تقاضوں میں الجھانا مناسب نہیں سمجھا گیا۔ جتنی دیر میں میتوں کی حوالگی ہوئی اتنی دیر میں ان کاغذوں پر تحریریں لکھی جاچکی تھیں۔ اس کا مقصد متاثرہ خاندان کی ڈھارس بندھانا اور انہیں تکلیف سے بچانا تھا۔ تو جن سادہ کاغذوں پر انگوٹھے لگوائے گئے وہ کس کام کے تھے؟
یہ بھی پڑھیں: کامران اکمل نے ٹیم سلیکشن کے غیر شفاف عمل پر سوال اٹھا دیے
انگوٹھوں کا مقصد واضح کرنا
ایک کاغذ پر انگوٹھے ایف آئی آر میں نام کی درستگی کیلئے لگوائے گئے تھے تاکہ درست نام کی نئی درخواست دی جاسکے۔ ابتدائی طور پر ایف آئی آر میں سیفٹی انچارج کا نام مزمل لکھا گیا تھا۔ پولیس نے اسے گرفتار کیا تو پتا چلا کہ اس کا نام حنظلہ ہے۔ نئی درخواست دے کر مقدمے میں نام درست کیا گیا۔
لاشوں کی شناخت کی تصدیق
دو کاغذات ایسے تھے جو دونوں لاشوں کی شناخت کی تصدیق کرنے کیلئے تھے، جس میں مختصر بیان یہ لکھا گیا کہ ورثا نے گواہوں کی موجودگی میں لاشوں کی شناخت کرلی ہے۔ دو کاغذ اس تصدیق کیلئے تھے کہ ورثا نے ماں اور بیٹی کی لاشیں وصول کرلی ہیں۔ موقع پر موجود پولیس حکام کی طرف سے یہ پانچوں درخواستیں موقع پر ورثا کو پڑھ کر بھی سنائی گئیں تاکہ کوئی ابہام باقی نہ رہے۔








