سانحہ داتا دربار، متاثرہ خاندان سے سادہ کاغذ پر انگوٹھے کس نے اور کیوں لگوائے؟

سانحہ داتا دربار: ایک قوم کا سوگ

لاہور (یاسر شامی سے) سانحہ داتا دربار نے پورے ملک کو سوگوار تو کیا ہی تھا لیکن انتظامیہ کے رویے نے پوری قوم کے زخموں پر جس طرح نمک پاشی کی وہ ناقابل بیان ہے۔ پولیس کے آپریشنز ونگ نے جس طرح معاملے کو ہینڈل کیا، متوفی خاتون کے شوہر کو تشدد کا نشانہ بنایا، وہ ہمارے تھانہ کلچر کی ایک بھاینک تصویر پیش کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی طبیعت ناسازی، کازلسٹ منسوخ کردی گئی

ویڈیو کی وائرلنگ اور پولیس کا بیان

ایسے میں ایک ویڈیو بھی وائرل ہوئی جس میں جاں بحق خاتون کے والد اور اہل خانہ سے سادہ کاغذ پر انگوٹھے لگوائے گئے۔ ویڈیو نے غم و غصے کو مزید ہوا دی لیکن پولیس نے جلد ہی اس کی وضاحت کی کہ مقدمے میں ایک شخص کا نام غلط لکھا گیا تھا جس کی درستگی کیلئے درخواست لکھنی تھی تو اسی پر انگوٹھے لگوائے گئے۔ اس وضاحت کے باوجود واقعے پر بہت سے سوالات موجود تھے جن کے جواب جاننے کیلئے اس نمائندے نے اس سٹوری پر کام کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاراچنار: بارودی سرنگ میں دھماکے سے 4 افراد جاں بحق

انگوٹھے لگوانے کی حقیقت

سب سے پہلے تو یہ پتا چلا کہ یہ انگوٹھے پولیس کے انویسٹی گیشن ونگ کی طرف سے ڈیڈ ہاؤس میں لگوائے گئے ہیں۔ اگرچہ پولیس کا آفیشل بیان جاری ہوچکا تھا لیکن اس نمائندے نے تصدیق کیلئے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذیشان رضا سے رابطہ کیا تو پتا چلا کہ انگوٹھے واقعی سادہ کاغذ پر لگوائے گئے تھے اور ایک نہیں بلکہ پانچ کاغذوں پر لگے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: کئی لوگ میری ناکامی کا انتظار کر رہے ہیں، کارتک آریان بالی ووڈ پر برس پڑے

کاغذوں کی نوعیت اور مقصد

ڈیڈ ہاؤس میں انگوٹھے جلد بازی میں لگوائے گئے تھے۔ خاندان پہلے ہی غم میں ڈوبا ہوا تھا تو انہیں قانونی تقاضوں میں الجھانا مناسب نہیں سمجھا گیا۔ جتنی دیر میں میتوں کی حوالگی ہوئی اتنی دیر میں ان کاغذوں پر تحریریں لکھی جاچکی تھیں۔ اس کا مقصد متاثرہ خاندان کی ڈھارس بندھانا اور انہیں تکلیف سے بچانا تھا۔ تو جن سادہ کاغذوں پر انگوٹھے لگوائے گئے وہ کس کام کے تھے؟

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی سعودی عرب کو مؤخر ادائیگیوں پر تیل کی سہولت مزید بڑھانے کی درخواست

انگوٹھوں کا مقصد واضح کرنا

ایک کاغذ پر انگوٹھے ایف آئی آر میں نام کی درستگی کیلئے لگوائے گئے تھے تاکہ درست نام کی نئی درخواست دی جاسکے۔ ابتدائی طور پر ایف آئی آر میں سیفٹی انچارج کا نام مزمل لکھا گیا تھا۔ پولیس نے اسے گرفتار کیا تو پتا چلا کہ اس کا نام حنظلہ ہے۔ نئی درخواست دے کر مقدمے میں نام درست کیا گیا۔

لاشوں کی شناخت کی تصدیق

دو کاغذات ایسے تھے جو دونوں لاشوں کی شناخت کی تصدیق کرنے کیلئے تھے، جس میں مختصر بیان یہ لکھا گیا کہ ورثا نے گواہوں کی موجودگی میں لاشوں کی شناخت کرلی ہے۔ دو کاغذ اس تصدیق کیلئے تھے کہ ورثا نے ماں اور بیٹی کی لاشیں وصول کرلی ہیں۔ موقع پر موجود پولیس حکام کی طرف سے یہ پانچوں درخواستیں موقع پر ورثا کو پڑھ کر بھی سنائی گئیں تاکہ کوئی ابہام باقی نہ رہے۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...