کیا مرنا ضروری ہے؟

غیرقانونی پارکنگ اور تجاوزات کی صورتحال

بھاٹی گیٹ حادثہ والی جگہ پر سڑک تنگ کرکے، پیدل گزرگاہ ختم کرکے غیرقانونی پارکنگ چلائی جا رہی تھی۔ ایسی ہی سینکڑوں غیرقانونی پارکنگز لاہور سمیت دیگر شہروں کی ہر سڑک پر قائم ہیں۔ انتظامیہ کی رشوت ستانی کی وجہ سے تمام اہم شاہراہوں پر کار شورومز اور ورکشاپس سڑکوں پر قائم ہیں۔ تجاوزات کے خاتمے کو صرف جعلی فوٹو سیشنز تک محدود کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹیکساس میں شدید بارشوں اور سیلاب سے 24 افراد ہلاک متعدد لاپتا

حادثات اور ان کے اثرات

شدید دھند کے دنوں میں گھروں کے باہر اور بازاروں میں بنائے گئے غیرقانونی ریمپ، گھروں کے باہر سڑک پر رکھے گئے پتھر، اضافی گرین بیلٹ اور غیرقانونی گارڈ رومز سے ٹکرا کر سینکڑوں حادثات ہوئے، لیکن ان تجاوزات کے خلاف کوئی ایکشن نہیں، کیونکہ صرف زخمی ہونا کافی نہیں تھا، حکمرانوں تک آواز پہنچانے کے لیے مرنا ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بینائی سے محروم افراد کے لیے مساوی مواقع کی فراہمی آئینی ذمہ داری ہے: صدر مملکت

انتظامی بدعنوانی

واسا، ایل ڈی اے، پی ایچ اے اور میونسپل کارپوریشن کے افسران کی اربوں روپے کے بجٹ میں ڈاکہ زنی کے راستے تلاش کرنے کے علاوہ دوسری سوچ ہی نہیں۔

واسا، پی ایچ اے اور ڈی سیز چین کی رنگ برنگی بتیوں کے ساتھ ایک ویڈیو بنا کر چیف منسٹر کو ٹیگ کرکے شاباش بھی لے لیتے ہیں اور کروڑوں روپے کی گیم بھی ڈال لیتے ہیں، جبکہ اسی جگہ سمیت باقی سارا شہر اور ضلع کھنڈر بنا ہوتا ہے۔ سرکاری میلوں، سیمینارز اور جشنِ بہاراں جیسی سرگرمیاں کمائی کا اہم ذریعہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت نے رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ میں 858 ارب روپے قرض لے لیا

صحت کے شعبے کی حالت

شعبۂ صحت کا بیڑا غرق ہو چکا ہے، لوگ مر رہے ہیں اور افسران جیبیں بھر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کا اسرائیل پر حملوں کی 37 ویں لہر شروع کرنے کا اعلان

ہیلمٹ کی تقسیم کا دھوکہ

سرکاری طور پر تقسیم کیے گئے مفت ہیلمٹ اور موٹر بائیک روڈز کے بل دیکھ کر آپ چکرا جائیں گے کہ ہزار فیصد ایکسٹرا ریٹ لگائے جاتے ہیں، اور اگر تعداد ایک لاکھ بتائی جاتی ہے تو حقیقت میں بیس ہزار تقسیم کی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سردار ذوالفقار کھوسہ انتقال کر گئے

ریڑھی بازار اور وسائل کی لوٹ مار

ضلعی انتظامیہ نے بیس ہزار والی ریڑھی ساٹھ کی اور ساٹھ ہزار والی ایک لاکھ ساٹھ میں تیار کروا کر ریڑھی بازاروں کے نام پر خوب کمائی کی۔ پھر وہی ریڑھیاں دینے کے لیے بھی بیس سے تیس ہزار کی دیہاڑی لگائی گئی۔ پھر انہی ریڑھیوں سے روزانہ بھتہ بھی لیا جاتا ہے۔ سرکاری ریڑھی بازار کے بالکل سامنے سڑک پر پرائیویٹ ریڑھیوں اور ٹھیلوں کو بھی رشوت کے عوض دکانداری کی اجازت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: صرف ٹرافی جیتنا ہی ضروری نہیں، نئے کھلاڑیوں کی تیاری بھی اہم ہے، شاہین آفریدی

ملازمین کی ترجیحات

یعنی سرکاری ملازمین کی ساری توجہ فراڈ اسکیموں اور پیسہ بنانے پر ہوتی ہے، عوام مرتی ہے تو مر جائے، ان کی دیہاڑی لگنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: توانائی بحران؛ 15 اپریل تک تعلیمی اداروں میں چھٹیوں کی سفارش

تجاوزات اور ان کا اثر

انکروچمنٹ کے خاتمے کے بجائے تجاوزات کی سرپرستی کی جا رہی ہے۔ تجاوزات مافیا سرعام کہتا ہے کہ ہم مفت میں نہیں بیٹھے، ضلعی انتظامیہ، ایل ڈی اے، ایم سی ایل، ٹریفک پولیس اور پیرا کو ”پروٹیکشن منی“ دیتے ہیں۔

اس سے بڑھ کر لاقانونیت اور شرمناک بات کیا ہو سکتی ہے کہ جس فورس کو قانون کی عملداری کے لیے بنایا جاتا ہے وہ خود قانون شکنی کی ساری حدیں پار کر رہی ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا؟

سرکاری افسران کی حرکتیں

گھر کے باہر زیادہ سے زیادہ 2 فٹ تک گرین بیلٹ ہوتا ہے، لیکن لاہور سمیت تمام شہروں میں پانچ سے پندرہ فٹ تک گرین بیلٹ، پارکنگ اور گارڈ روم کے نام پر جگہ، جگہ قبضہ کیا گیا ہے۔ گارڈ روم والی بدمعاشی سرکاری کن ٹٹوں نے کی ہوئی ہے۔ ہر سرکاری افسر گھر کے باہر سڑک پر گارڈ روم بنانا، بدمعاشی دکھانا اپنا استحقاق سمجھتا ہے۔ بہت سارے افسران نے جی او آر کی تصاویر اور ویڈیوز بھیجی ہیں کہ ان کے ساتھی افسران کس طرح بدمعاشی کرکے راستہ بند کر دیتے ہیں اور گلی پر قبضہ کرکے پختہ تعمیرات کی ہوئی ہیں۔ جو اپنے گھر سرکاری کالونی سے تجاوزات ختم نہیں کروا سکتے، وہ باہر کیا کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور: ہزاروں سال کی تاریخ اور مغلیہ سلطنت کا مرکز

لاہور کی بدصورت صورتحال

سب سے بدترین تجاوزات لاہور میں ہیں، جہاں سڑکوں پر گاڑی چلانا جبکہ بازاروں میں پیدل چلنا بھی محال ہے۔ خود سے تجاوزات کا خاتمہ تو درکنار، متعدد بار شکایات کے باوجود کارروائی نہیں کی جا رہی۔ صوبائی دارالحکومت کو رول ماڈل ہونا چاہیے، لیکن لاہور کی خوبصورتی کو تجاوزات مافیا کی سرپرستی کرنے والے سرکاری افسران نے بدصورتی میں بدل دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 1. اکتیبر احتجاج کے مقدمات؛ عمرایوب کے وارنٹ گرفتاری جاری، عدم حاضری پر ضمانتی مچلکے ضبط کرنے کا حکم

مالیاتی نقصان

لاہور کی مختلف مارکیٹوں اور شاہراہوں پر عارضی تعمیرات اور تجاوزات قائم کروا کر ماہانہ پانچ سو کروڑ سے زائد صرف تجاوزات کی آمدنی ہے۔ اسی طرح دیگر اضلاع میں بھی تجاوزات ماہانہ کروڑوں کی انڈسٹری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جوبائیڈن صدارت چھوڑنے کے بعد پہلی بار منظر عام پر آگئے

سرکاری اور پرائیویٹ مافیا

لاہور سمیت پنجاب بھر میں گاڑیوں کے شورومز، ریپئرنگ ورکشاپس اور ریسٹورنٹ مافیا نے ”پروٹیکشن منی“ دے کر سڑکوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔ سرکاری اور پرائیویٹ چکڑ چوہدریوں نے جنگلے اور گیٹ لگا کر گلیاں بند کی ہوئی ہیں۔ گھروں کے باہر سڑک کی زمین پر قبضہ کرکے بنائی گئی گرین بیلٹ اور گارڈ روم کے نام پر 10 فٹ تک قبضہ عام روٹین ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دبئی میں کنگڈم گروپ، کنگڈم ویلی اور PIPEX کے درمیان کاروباری معاہدہ، دستخط ہوگئے

قانون کی عملداری

سرکاری گاڑیوں کی اکثریت بغیر نمبر پلیٹ ہے یا نمبر کے آگے راڈ لگا کر چھپایا ہوتا ہے۔ عام پبلک کا آن لائن چالان اور ان سرکاری بدمعاشوں کو کھلی چھٹی کیوں؟

رکشوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کو دو ہزار روزانہ پر بغیر نمبر پلیٹ چلانے کی اجازت ہے، کیونکہ مجموعی طور پر یہ رقم 60 کروڑ روزانہ سے زائد ہے۔

نتیجہ

عام شہریوں کو ان قانون شکن اور بدمعاش سرکاری و پرائیویٹ مافیا سے انصاف اور حق لینے کے لیے مرنا ضروری ہے کیا؟

نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں 

Categories: بلاگ

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...