جسٹس محمد علی مظہر کا بھٹو پھانسی ریفرنس پر تفصیلی نوٹ جاری
اسلام آباد میں اہم عدالتی بیان
سپریم کورٹ کے سینئر جج، جسٹس محمد علی مظہر نے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے صدارتی ریفرنس پر اپنا 24 صفحات پر مشتمل تفصیلی نوٹ جاری کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ جلد بازی، غصے یا تعصب میں کئے گئے فیصلے ناصرف ملکی قانون بلکہ اسلامی اصولوں کے بھی منافی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سیالکوٹ کے 80 سرکاری سکولز 10 ستمبر تک بند رہیں گے، ڈپٹی کمشنر
سابق چیف جسٹس کی گواہی
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق، جسٹس مظہر نے اپنے نوٹ میں سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کے ماضی میں دیئے گئے انٹرویوز کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے خود اعتراف کیا تھا کہ بھٹو کیس کا فیصلہ دباؤ کے تحت کیا گیا تھا۔ سابق چیف جسٹس کا یہ اعتراف کسی بھی عقل سلیم رکھنے والے شخص کے لیے اس بات میں شک کی گنجائش نہیں چھوڑتا کہ یہ ایک عدالتی قتل تھا۔ ایسا اعتراف ایک جج کے حلف کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اردوان اور ٹرمپ کی ٹیلیفون پر گفتگو
ججوں کا رویہ اور انصاف کی فراہمی
فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر جج کسی فریق یا وکیل سے ناراض ہو جائے یا اپنا صبر کھو دے، تو اس کے لیے قانون کے مطابق انصاف کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔
غصے میں فیصلے کی ممکنہ برکات
فاضل جج نے آبزرویشن دی کہ بھٹو کیس کی سماعت کرنے والے جج مبینہ طور پر اپیل کی سماعت کے دوران "غصے" میں تھے، جس سے آزادانہ ذہن کے ساتھ فیصلے کا امکان ختم ہو گیا تھا۔








