پشاور ایف سی ہیڈکوارٹر حملہ کیس میں پیشرفت، سہولت کار بھی افغان نکلے
پشاور میں خودکش دھماکوں کی تفتیش
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹر پشاور خودکش دھماکوں کی تفتیش میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، سہولت کار بھی افغانی نکلے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں ٹریفک روانی میں خلل ڈالنے اور پیشہ ور گداگروں کے خلاف کریک ڈاؤن، 48 گھنٹوں میں 310 زیر حراست
دھماکے کرنے والے سہولت کاروں کا تعلق
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق تفتیشی حکام نے بتایا کہ دھماکے کرنے والے خودکش بمباروں کے سہولت کاروں کی نشاندہی ہوگئی، واردات میں ملوث سہولت کاروں کا تعلق بھی افغانستان سے تھا۔
یہ بھی پڑھیں: مانیٹری پالیسی کمیٹی کا آج اجلاس، شرح سود میں 2 فیصد تک کمی متوقع
منصوبہ بندی اور گرفتاریوں کا عمل
حکام کے مطابق خودکش دھماکوں کی تمام منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی، واقعہ سے متعلق اہم گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عمر ایوب اور شبلی فراز نے الیکشن دھاندلی کیخلاف احتجاج نہ کرنے کی ڈیل کی، فواد چوہدری کا دعویٰ
حملے کے متاثرین
یاد رہے کہ فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹرز پر حملہ گزشتہ سال 24 نومبر کو ہوا تھا، حملے میں فیڈرل کانسٹیبلری کے 3 جوان شہید اور 5 زخمی ہوئے تھے، دہشتگردوں کے حملے میں 8 شہری بھی زخمی ہوئے تھے۔
خودکش بمباروں کی شناخت
تفتیشی حکام کے مطابق ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حملہ کرنے والے تینوں خودکش بمبار افغان شہری تھے۔








