پشاور ایف سی ہیڈکوارٹر حملہ کیس میں پیشرفت، سہولت کار بھی افغان نکلے
پشاور میں خودکش دھماکوں کی تفتیش
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹر پشاور خودکش دھماکوں کی تفتیش میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، سہولت کار بھی افغانی نکلے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آشنا کے ساتھ پکڑے جانے پر شوہر نے بیوی کی ناک کاٹ دی
دھماکے کرنے والے سہولت کاروں کا تعلق
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق تفتیشی حکام نے بتایا کہ دھماکے کرنے والے خودکش بمباروں کے سہولت کاروں کی نشاندہی ہوگئی، واردات میں ملوث سہولت کاروں کا تعلق بھی افغانستان سے تھا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں بارشوں کے بعد جلدی امراض کے مریضوں میں اضافہ ہو گیا
منصوبہ بندی اور گرفتاریوں کا عمل
حکام کے مطابق خودکش دھماکوں کی تمام منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی، واقعہ سے متعلق اہم گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دہشتگردی کے خاتمے کا مشن قومی اور اجتماعی عزم کیساتھ آگے بڑھایا جائے گا:آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر
حملے کے متاثرین
یاد رہے کہ فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹرز پر حملہ گزشتہ سال 24 نومبر کو ہوا تھا، حملے میں فیڈرل کانسٹیبلری کے 3 جوان شہید اور 5 زخمی ہوئے تھے، دہشتگردوں کے حملے میں 8 شہری بھی زخمی ہوئے تھے۔
خودکش بمباروں کی شناخت
تفتیشی حکام کے مطابق ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حملہ کرنے والے تینوں خودکش بمبار افغان شہری تھے۔








