امریکا نے جنگ شروع کی تو صرف ایران تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ایک علاقائی جنگ ہوگی، خامنہ ای
ایران کے سپریم لیڈر کی جنگ کی وارننگ
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکا کی جانب سے ممکنہ فوجی حملے کی صورت میں پورے خطے میں جنگ چھڑنے کی سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکا نے اس بار جنگ شروع کی تو وہ صرف ایران تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ایک ریجنل وار ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا رائٹ سائزنگ منصوبے کے تحت 30 ہزار 968 سرکاری ملازمتیں ختم کرنے کا فیصلہ
حالیہ مظاہروں پر ردعمل
خبر ایجنسی روئٹرز کے مطابق اتوار کے روز خطاب میں آیت اللہ خامنہ ای نے ایران میں حالیہ حکومت مخالف مظاہروں کو ’’بغاوت‘‘ اور ’’کُو‘‘ قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ یہ احتجاج عوامی نہیں بلکہ بیرونی طاقتوں کی پشت پناہی سے کرائے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ مظاہرین نے پولیس، سرکاری عمارتوں، پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے مراکز، بینکوں اور مساجد پر حملے کیے، قرآن پاک کو جلایا اور ملک کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی، مگر یہ بغاوت ناکام بنا دی گئی۔
امریکا کو جواب کا مشورہ
ایرانی سپریم لیڈر نے عوام کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات سے خوفزدہ نہ ہونے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ جنگ کی صورت میں اس کے نتائج پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔








