سہیل آفریدی کا بیان کہ تحمل کچادھاگا ہے واقعات کی صحیح عکاسی ہے، سلمان اکرم راجا نے وزیر اعلیٰ کے پی کے بیان کی وضاحت کردی
پاکستان تحریک انصاف کا بیان
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سلمان اکرم راجا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ سہیل آفریدی کی گزشتہ روز کی تقریر کے ایک جملے کو دانستہ طور پر غلط تناظر میں پیش کیا گیا۔ ان کے مطابق سہیل آفریدی کا یہ کہنا کہ پارٹی کے بڑے تحمل و برداشت کی ہدایت کر رہے ہیں پر یہ تحمل کچا دھاگا ہے واقعات کی صحیح عکاسی ہے۔ برداشت کی ایک حد ہے۔ پی ٹی آئی ایک پرامن تحریک برائے جمہوریت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: واپڈا میں مستقل افسران کی غیر موجودگی، ادارہ انتظامی بحران اور بیوروکریسی کی رکاوٹوں کا شکار
اسٹریٹجک قیادت
Salmán Akram Raja نے واضح کیا کہ پاکستان تحریک انصاف ایک پرامن تحریک برائے جمہوریت ہے۔ انہوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو عمران خان کا مکمل اعتماد حاصل ہے اور پارلیمان کے اندر اور باہر آئندہ لائحہ عمل کی نشاندہی انہی رہنماؤں نے کرنی ہے، تاہم وہ اس عمل میں مشاورت کو ہمیشہ مقدم رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب جاتے ہوئے لائسنس نہ ہونے پر آف لوڈ ہونے والا نوجوان محمد طفیل 18 دن میں گاڑی چلانا سیکھ کر سعودی عرب روانہ ہوگیا۔
عمران خان کی صحت کا معاملہ
بیان میں کہا گیا کہ محمود خان اچکزئی کا عمران خان کی صحت سے متعلق دیا گیا بیان ہرگز اس معاملے کو نظرانداز کرنے کے لیے نہیں تھا، بلکہ اس کا مقصد جابرانہ قوتوں کو یہ پیغام دینا تھا کہ وہ عمران خان کو نقصان پہنچانے کی ہمت نہیں رکھتے۔ سلمان اکرم راجا کے مطابق اچکزئی صاحب نے قوم سے مطالبہ کیا ہے کہ 8 فروری کو ووٹ کی مبینہ لوٹ مار کے خلاف مکمل ہڑتال کی جائے، اور یہ احتجاجی عمل 8 فروری کے بعد بھی جاری رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا اسمبلی میں آل پارٹیز امن جرگہ کے انعقاد پر اسپیکر بابر سلیم سواتی اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی مبارکباد کے مستحق ہیں،صحافی حامدمیر
پی ٹی آئی کا اتحاد
Salmán Akram Raja نے زور دیا کہ عمران خان کی صحت ہر چیز سے بڑھ کر ہے، اور پی ٹی آئی و تحریک تحفظ آئین سے وابستہ ہر فرد عمران خان کی صحت اور آزادی کے معاملے پر واضح مؤقف رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے اندر اور باہر نفاق پھیلانے والے عناصر میر جعفر و صادق کے پیروکار ہیں، جو نہ تو عمران خان کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی ان کی تحریک کو کمزور کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں 16 جنوری تک شدید سردی کی پیشگوئی، لاہور میں درجہ حرارت 3ریکارڈ
فوری اقدامات کی ضرورت
انہوں نے کہا کہ عمران خان اور ان کے مقصد کے ساتھ کھڑے ہر فرد کو جھوٹے پروپیگنڈے کا سامنا ہے۔ بیان کے مطابق عمران خان کی صحت سے متعلق مصدقہ اطلاعات ملنے پر سہیل آفریدی، شاہد خٹک، مینا خان، جنید اکبر، فلک ناز اور دیگر رہنما دوپہر دو بجے اڈیالہ جیل پہنچے۔
یہ بھی پڑھیں: Important Announcement from Emirates Airlines for Travelers Coming to and from Dubai
ڈاکٹروں کی عدم رسائی
Salmán Akram Raja نے مزید بتایا کہ ہر ممکن کوشش کے باوجود شوکت خانم کے ڈاکٹر عاصم یوسف اور ڈاکٹر خرم مرزا کو عمران خان تک رسائی نہیں دی گئی۔ ان کے مطابق رات قریب تین بجے باہمی مشاورت کے بعد دھرنے کو اڈیالہ جیل سے سپریم کورٹ کے باہر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، تاہم یہ الزام بے بنیاد ہے کہ یہ فیصلہ عمران خان کی بہنوں کے کہنے پر کیا گیا۔
عزم و استقلال
انہوں نے آخر میں کہا کہ عمران خان کی صحت اور آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور پارٹی اس معاملے پر متحد اور پُرعزم ہے۔








