اعتماد اور درست فیصلے ہی بڑے ٹورنامنٹس میں کامیابی کی کنجی ہوتے ہیں، سلمان آغا
قومی ٹیم کے کپتان کا مؤقف
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) قومی ٹیم کے کپتان سلمان آغا نے کہا ہے کہ اعتماد اور درست فیصلے ہی بڑے ٹورنامنٹس میں کامیابی کی کنجی ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نوجوان لڑکی نے اپنے عاشق کی لاش سے شادی کر کے سب کو حیران کر دیا
شاندار فتح کی تفصیلات
آسٹریلیا کے خلاف میچ میں شاندار فتح کے بعد گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ یہ جیت ایک مکمل ٹیم کارکردگی کا نتیجہ ہے اور گزشتہ دو دنوں میں پاکستان نے کھیل کے تمام شعبوں میں حریف پر واضح برتری قائم رکھی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں ٹیم کی مجموعی کارکردگی میں کسی بڑی خامی کا احساس نہیں ہوا اور اسی وجہ سے وہ اس وقت انتہائی مثبت ذہنی کیفیت میں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ میں زیرسماعت کیس کی عدالتی دستاویز چوری
کپتانی اور بیٹنگ کے دباؤ
سلمان آغا نے کپتانی اور بیٹنگ کے دباؤ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ جب وہ بیٹنگ کے لیے میدان میں اترتے ہیں تو کپتانی کے دباؤ کو کیسے قابو میں رکھنا ہے، اور یہی طرزِ فکر وہ آئندہ ورلڈ کپ میں بھی برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق اعتماد اور درست فیصلے ہی بڑے ٹورنامنٹس میں کامیابی کی کنجی ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جو بھی بنا اجازت حج پر گیا تو اسے ۔۔۔ امارات نے سخت ترین حکم جاری کر دیا
فاسٹ باؤلرز کی حکمت عملی
فاسٹ باؤلرز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کپتان نے واضح کیا کہ شاہین شاہ آفریدی کو مسلسل نہیں کھلایا جا رہا کیونکہ ٹیم مینجمنٹ انہیں ورلڈ کپ کے لیے تازہ دم رکھنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی شاہین کو باؤلنگ کا موقع ملا ہے، انہوں نے شاندار کارکردگی دکھائی ہے اور یہی صورتحال نسیم شاہ کی بھی ہے، جو ہر موقع پر ٹیم کے لیے مؤثر ثابت ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: انڈے 60 روپے فی درجن مہنگے، مرغی کا گوشت 970 روپے فی کلو ہو گیا
اسپن باؤلنگ پر بحث
اسپن باؤلنگ پر گفتگو کرتے ہوئے سلمان آغا نے کہا کہ جب ٹیم کے پاس پانچ معیاری اسپنرز ہوں اور میچ صرف 20 اوورز کا ہو تو باؤلنگ کا توازن قائم رکھنا آسان نہیں ہوتا، کیونکہ تمام اسپنرز وکٹ لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ خود بھی پہلے ہی اپنے پانچ اوورز کرا چکے ہیں اور مزید اوورز کروانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔
فیلڈنگ میں بہتری کی کوششیں
فیلڈنگ میں بہتری کے حوالے سے کپتان نے بتایا کہ ایشیا کپ کے بعد ٹیم نے اپنی کمزوریوں پر سنجیدگی سے غور کیا تھا، خاص طور پر سری لنکا میں ہونے والی ناقص فیلڈنگ پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ ان کے مطابق اس سیریز سے قبل ٹیم نے واضح طور پر نشاندہی کی کہ کہاں غلطیاں ہوئیں، اور آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں پاکستان نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ وہ دوبارہ اپنی دھاک بٹھانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔








