ترکش چکن اور بریانی کھا کر ہم انگلیاں ہی چاٹتے رہ گئے، نیل گائے اور ہرن کا گوشت اس قدر لذیز ہوتا تھا کہ پیٹ گنجائش سے زیادہ بھر جاتا تھا۔
مصنف کی معلومات
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 426
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے پاکستان کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دیں
بریانی کی دعوت
چند دن بعد انہوں نے فون کر کے بریانی کی دعوت دے ڈالی۔ اتفاق سے عمر اور احمد بھی بہاول پور آئے ہو ئے تھے۔ اس روز احمد بھی ان کا مہمان بنا اور ٹرکش چکن اور بریانی کھا کر ہم انگلیاں ہی چاٹتے رہ گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: جنرل عاصم منیر کا بیانیہ اور بھارتی اضطراب
لیاقت بھائی کا تعارف
اتنے میں ایک اور صاحب بھی وہاں چلے آئے یہ لیاقت بھائی تھے۔ خانقاہ شریف کے رہائشی اور مین بازار میں کپڑے کے کاروباری۔ یہ عمر بھائی کے گہرے دوست تھے۔ مجھ سے تعارف ہوا تو میرے بھی دوست بن گئے اور محبت کا یہ سلسلہ آج بھی قائم ہے۔ وہ شکار کھیلنے کے شوقین ہیں اور ان کے گھر والوں کو نیل گائے اور ہرن کا گوشت بنانے میں ملکہ حاصل ہے۔ میں نے ان جانوروں کا ایسا لذیز گوشت کہیں اور نہیں کھایا۔ نیل گائے اور ہرن کا گوشت اس قدر لذیز ہوتا تھا کہ ناک اس کی خوشبو کی تاب نہ لا سکتی تھی اور پیٹ گنجائش سے زیادہ بھر جاتا تھا۔ کئی بار عامر، مسعود صابر اور میں ان کے ہاں نیل گائے کا گوشت کھانے آئے تھے۔ لیاقت اور عمر بھائی دونوں ہی درویش آدمی ہیں۔ حضرت محکم الدین سرانی ؒ کے چاہنے والوں کو ایسا ہی ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ اور چین میں ٹک ٹاک ڈیل کا فریم ورک طے، دونوں ممالک کے صدور معاہدے کو حتمی شکل دیں گے
انٹرویو بورڈ کی تشکیل
ممبر انٹرویو بورڈ؛ غالباً مارچ 2013ء کی بات تھی۔ مجھے ڈیپارٹمنٹ نے پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ہونے والے سب انجینئرز کی بھرتی کے لئے انٹرویو بورڈ کا ممبر نامزد کیا۔ یہ انٹرویز 2دن تک ملتان میں ہونے تھے۔ میرے لئے یہ اعزاز کی بات تھی کہ محکمہ کی طرف سے کسی ڈائریکٹر کی پہلی بار ایسی نامزدگی ہوئی تھی۔ میں مقررہ دن ملتان پہنچ گیا۔ میرے علاوہ اس بورڈ میں ساہی وال سے تعلق رکھنے والے سابق وفاقی سیکرٹری چوہدری محمد رؤف ممبر پبلک سروس کمیشن پنجاب اس بورڈ کے چیئرمین جبکہ زوالفقار احمد پرنسپل ٹیوٹا (TEVTA) ملتان ٹیکینکل ممبر تھے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں مون سون کے 11 ویں سپیل کا الرٹ جاری، 16 ستمبر سے بارشیں
انٹرویو کے تجربات
چائے کے دوران ہمارا تفصیلی تعارف ہوا اور پھر انٹرویوز شروع ہوئے۔ انٹر ویو کے لئے آنے والے امیدواروں کا تعلق جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع سے تھا۔ اکثر امیدواروں کے لباس سے غربت اور چہروں پر پریشانی عیاں تھی۔ چوہدری رؤف امیدواراں سے ان کی فیملی اور تعلیم کے بارے سوالات کرتے جبکہ ذوالفقار ان سے ٹیکنیکل سوالات پوچھتے اور میں ان سے محکمہ مقامی حکومت کے بارے سوال کرتا۔ لنچ کا وقفہ ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: افغان کمسن لڑکا طیارے کے لینڈنگ گیئر میں چھپ کر دہلی پہنچ گیا
درد دل رکھنے والی گفتگو
لنچ ذوالفقار کے گھر سے تیار ہو کر آیا تھا۔ بہت لذیز اور پر تکلف۔ اسی دوران مجھے چوہدری رؤف سے کھل کر باتیں کرنے کا موقع ملا اور باتوں باتوں میں پتہ چلا کہ میرے عزیز دوست نعیم اسلم دھوریہ کے اچھے شناسا تھے۔ نعیم سے میری دوستی 3 دھائیوں سے زیادہ پر مشتمل تھی۔ ہمارے بچے اب اس دوستی کو آگے بڑھائے ہوئے ہیں۔ چوہدری رؤف درد دل رکھنے والے نفیس اور عمدہ شخصیت کے مالک تھے۔ میں نے ان سے درخواست کی؛
”سر! ان امیدواروں کا تعلق جنوبی پنجاب کے پس ماندہ اضلاع سے ہے۔ غربت ان بچوں کے چہروں سے نظر آتی ہے۔ کوئی چوکیدار کا بیٹا ہے تو کوئی مالی کا اور کوئی مزدور کا۔ نہ جانے ان کے والدین نے انہیں اچھے دنوں کی آس میں کتنی اور کیسی مشکلات سے پڑھایا ہوگا۔ آج یہ یہاں تک پہنچے ہیں۔ سر! ہم ان میں سے 18/20 والے بچوں کو بھی سلیکٹ کر لیں تو نیکی ہو گی اور ان کے والدین کی ان دیکھی دعائیں سے شاید اللہ بھی ہم سے راضی ہو جائے۔ مشکل وقت میں یہ دعائیں ہمارے بہت کام آئیں گی۔“
یہ بھی پڑھیں: بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لو کاشینکو مری پہنچ گئے
امیدواروں کی منتخب کرنے کا عمل
توجہ سے سنی میری بات شاید ان کے دل میں اتر گئی تھی۔ مسکرائے اور حامی بھر لی۔ ذوالفقار سے میں پہلے ہی بات کر چکا تھا۔ باقی وقت میں تین چار ایسے امیدواروں کو بھی سلیکٹ کر لیا جو 18/20 تھے۔ ان میں سے ایک بچے کے پاؤں میں ٹوٹے ہوئے جوتے تھے، ایک کا باپ اس کی پڑھائی کی وجہ سے مقروض تھا، ایک بچے کو اس کی بیوہ ماں نے برتن دھو کر پڑھایا تھا۔ میں ہمیشہ سے اس بات کا قائل رہا ہوں کہ ”اللہ نیکی کا موقع ہر شخص کو نہیں دیتا۔“
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








