تقسیم کے فوراً بعد بھارت میں جاگیریں ختم کر کے مہاراجوں کی خدائی ختم کر دی گئی تھی، بدقسمتی سے قائد اعظم کے بعد کوئی جرأت مند لیڈر اقتدار میں نہ آیا۔

مصنف: رانا امیر احمد خاں

قسط: 294

بلوچستان کا مسئلہ اور اس کا حل

آج پاکستان کا ہر محب وطن شہری بلوچستان کے حالات پر متفکر ہے۔ ہر باشعور شخص سوال کرتا ہے کہ بلوچستان بدامنی کا شکار کیوں ہے؟ بلوچستان کا حقیقی مسئلہ کیا ہے؟ اس صوبہ کی آبادی ایک کروڑ 20 لاکھ کے لگ بھگ ہے جو لاہور شہر سے بھی کم بنتی ہے۔ یہ صوبہ معدنیات سے مالا مال اور رقبہ کے اعتبار سے پاکستان کے تقریباً 43 فیصد حصہ پر مشتمل ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ اتنی آبادی کو پچھلے 65 سالوں میں کیوں خوشحال اور تعلیم یافتہ نہیں بنایا جا سکا؟

بلوچستان کی موجودہ صورتحال

لوگوں کے کاروباری حالات بھی دگرگوں رہے۔ صوبہ بھر میں تعلیمی، طبی اداروں اور سڑکوں کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔ لوگ علاج معالجہ اور بنیادی تعلیم اور پانی کی عدم دستیابی جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔ صوبے میں زراعت پانی کی کمی کے باعث بھی روبہ زوال ہے۔ اندریں حالات عوام کی زندگی انتہائی اجیرن ہو چکی ہے۔ بے روزگاری نے عوام کا جینا محال کیا ہوا ہے۔ بلوچستان میں آج بھی قدیم قبائلی نظام برقرار ہے۔ سرداروں کا راج ہے۔ عام آدمی کی اپنی کوئی مرضی نہیں۔

سرداروں کا اثر

سردار کہیں تو وہ ہتھیار اٹھا لیں اور سردار چاہیں تو پہاڑوں پر جانے والوں کا غصہ ٹھنڈا ہو جائے۔ پاک، بھارت کی تقسیم کے فوراً بعد بھارت میں جاگیریں اور ریاستیں ختم کر کے راجوں مہاراجوں سرداروں اور ٹھاکروں کی خدائی ختم کر دی گئی تھی۔ بدقسمتی سے قائد اعظم کے بعد کوئی جرأت مند اور راست باز لیڈر اقتدار میں نہ آیا۔ بلوچستان میں آج تک سرداری نظام قائم ہے جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ دیگر صوبوں میں بھی فیوڈل نظام کے علمبردار اور خاندانی وراثتی پارٹیوں کے کرتا دھرتا حکومتوں میں براجمان ہیں۔

بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے سفارشات

  1. ایک عرصہ سے دانشور حلقوں کی جانب سے قانونِ شہادت میں تبدیلی کی بازگشت سْنائی دے رہی تھی تاکہ فتنہ و فساد کرنے والے دہشت گرد قانونی سقم / پیچیدگیوں کے باعث بچ کر نہ نکل سکیں لہٰذا سابقہ اور موجودہ صوبائی و مرکزی حکومتوں کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد یہ امر باعث اطمینان ہے کہ گزشتہ سالوں میں ہماری پارلیمنٹ نے فوجی عدالتوں کے قیام کا قانون پاس کر کے دہشت گردی جیسے گھمبیر مسئلہ سے مؤثر انداز میں نمٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔
  2. امن و امان قائم کرنے کے لیے فوج اور رینجرز کی بجائے صوبائی حکومتیں پولیس کو اس قابل بنائیں کہ وہ مؤثر انداز میں امن قائم کرنے کے لیے اپنے منصبی فریضہ سے بخوبی عہدہ برا ہو سکے اور انٹرنل سکیورٹی کے مؤثر نظام کا قیام یقینی بنا سکے۔
  3. سابقہ دور کے آغاز حقوقِ بلوچستان کا کیا بنا؟ اربوں روپے کہاں چلے گئے؟ تحقیقات ہونی چاہیے۔ سابق صوبائی وزراء اور ارکان اسمبلی جو بدعنوانیوں میں ملوث تھے انہیں بے نقاب کیا جائے اور ان کا محاسبہ کیا جائے۔
  4. جبری گمشدگیوں کا غیر قانونی طریقہ کار قانون کی حکمرانی کی مکمل نفی ہے۔ تمام جبری گمشدگیوں کا فوری سراغ لگایا جائے اور واقعات کی تحقیقات کے لیے فی الفور ایسا طریقہ کار وضع کیا جائے جس پر لوگ اعتماد کریں اور ریاست اس امر کو یقینی بنائے کہ سرکاری اہل کاروں کے اقدامات قانون کی حدود میں رہیں اور ذمہ داران کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔
  5. صوبے میں کام کرنے والی تمام سیکورٹی فورسز کو سیاسی کنٹرول سے آزاد کر کے انہیں صوبے میں مکمل امن کے قیام اور حکومتِ پاکستان کی رِٹ بحال کرنے کا ٹاسک دیا جائے۔ البتہ فرنٹیئر کانسٹیبلری کو سول اداروں کی معاونت میں سول کنٹرول کے تحت کام کرنا چاہیے۔

نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...