ہونی تو ہو ہی رہی تھی لیکن ایک انہونی بیچ میں آٹپکی، حالات نے یوں پلٹا کھایا کہ بس ہکّابکّا رہ گیا، خالی جیب کا طمانچہ سب خیالی پلاؤ کی چٹنی بنا دیتا
مصنف: ع۔غ۔ جانباز
قسط: 45
میرا ایک ساتھی بھی تھا محمد اصغر اُس کے متعلق بتانے کی اس لیے ضرورت محسوس نہیں کی کہ سبھی اُنیس، بیس کے زُمرے میں آتے تھے، کوئی بڑھ مارنے کی پوزیشن میں نہ تھا۔ سبھی تبادلۂ آبادی کی کٹھالی سے رگڑا کھا کر نکلے تھے جو نہ نکل سکے وہ ایک دائمی سکون کی گود میں چلے گئے یا پھر ذِلت کی اتھاہ گہرائیوں میں جا گرے۔
صبح کی تیاری
صبح سویرے ہم دونوں مناسب مقدار میں آٹا (جو ظاہر ہے روٹیوں کی شکل میں ہوتا ہے) پیٹ میں رکھ اور اوپر سے پیالہ بھر پانی پی کر نکل پڑتے اور صرف خراماں خراماں، یہ اس لیے کہ تیز قدم مبادا…… تھکا کر کہیں راہِ مستقیم سے بھٹکا نہ دیں اور ذہن وسوسوں اور تفکرّات کی آماجگاہ نہ بن جائے۔
راستے کی مہم
”گٹی“ اسٹیشن سے پھر ریلوے ٹریک کے ساتھ اِدھر اُدھر اِکا دُکا بکھرے پتھّروں سے کھیلتے کہ وہ بھی اپنے ہمجولی سے نظر آتے…… بے چارے ریلوے ٹریک کے دھتکارے ہوئے کسمپرسی کے عالم میں اپنی بے مائیگی کا نُوحہ کرتے ہوئے اور یہ چڑیاں، فاختائیں اور شارکیں اپنے آشیانوں سے نکل کر کھیتوں کھلیانوں کی صحرا نوردی میں مشغول و مجبور…… کتنا حوصلہ بڑھتا اُن کو دیکھ کر توکل علی اللہ کا ایک جیتا جاگتا ثبوت……
آگے بڑھنے کی رغبت
گرمی کی شدّت کبھی کبھی بوجھ ڈالتی۔ پسینہ آبگینہ کی لڑیاں بن کر ٹپکنے لگتا۔ لیکن بڑھتے قدموں کو کون روکے اور کون ٹوکے؟ اور آخر کار ریلوے ٹریک کا ساتھ چھوڑنا پڑتا اور محلہ طارق آباد کے مین بازار سے ہو کر فیصل آباد ریلوے اسٹیشن کے سامنے سے گذر کر آگے ریل بازار ……”گھنٹہ گھر“ اور بھُوانہ بازار سے ہو کر گورنمنٹ کالج کو جا چُھوتے۔
کالج کی فضائیں
کالج کی بلڈنگ کے دس بارہ کمرے، پلے گراؤنڈ، دو ہوسٹل، دو لیبارٹریاں، ایک بڑا ہال اور دو رہائشی کوٹھیاں اور ایک ٹک شاپ۔ ہم تو کلاس رومز تک ہی اپنے آپ کو محدود رکھتے اور ذہن پڑھائی کے علاوہ واپسی سفر پر روانہ ہونے کا تانا بانا بھی بنتا رہتا اور آخر کار وہ لمحہ آہی جاتا اور ہم دونوں گیٹ سے ایسے نکلتے جیسے بندوق سے کارتوس…… اب انہی بازاروں سے ہو کر فیصل آباد ریلوے اسٹیشن کو جانے والی سڑک پر جا نکلتے۔
بازار کا منظر
بازاروں میں مٹھائی فروٹ اور دوسری خورد و نوش کی دکانوں کی اشیاء اور اُن سے اٹھنے والی خوشبو آنکھوں میں کانٹا بن کر چبھتی، لیکن خالی جیب کا ایک طمانچہ سب خیالی پلاؤں کی چٹنی بنا دیتا۔ ریلوے اسٹیشن کے سامنے سے گذر کر طارق آباد مین بازار سے آگے ریلوے ٹریک کے ساتھ پھر خراماں خراماں چلتے چلتے آٹھ میل کی مسافت طے کر کے اپنے اپنے گھروں کی دہلیزوں کو جا چُھوتے۔
حالات کا پلٹا
”ہونی“ تو ہو ہی رہی تھی۔ لیکن ایک ”انہونی“ بیچ میں آٹپکی اور حالات نے یوں پلٹا کھایا کہ میں تو بس ہکّابکّا رہ گیا۔ آپ شاید غلط سمجھ بیٹھے۔ حالات میرے تو جہاں تھے کہ ”زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد“ وہیں جامد و ساکت رہے۔
محمد اصغر کا تبدیلی کا لمحہ
بس ایک کمال ہوا تو محمد اصغر کے حالات میں ہوا۔ وہ یوں کہ اُس کے ایک قریبی رشتہ دار چند کلو میٹر کے فاصلہ پر رہائش پذیر تھے۔ اِن دو خاندانوں کی بڑی بیبیوں میں کچھ سلسلۂ راز و نیاز چل چکا تھا اور محمد اصغر صاحب اُس خاندان کی ایک نوخیز دوشیزہ سے منسوب ہوچکے تھے۔
مسکراہٹ کی امید
بس پھر کیا تھا۔ محمد اصغر صاحب کی اس روزانہ محنت و مشقت اُن سے برداشت نہ ہوسکی اور نتیجتاً ایک عدد نیا سائیکل لے کر محمد اصغر کے گھر چھوڑ گئے۔ چلو ایک خوشحال رشتہ دار دوسرے رشتہ دار کے کام آگیا…… ”اچھا تو آپ کی مسکراہٹ……؟“ ”کیوں کچھ اُمید بہار لیے بیٹھے ہو؟“ ”بھئی میرا روز کا ساتھی۔ میرا دوست محمد اصغر حالات کے جبر سے اگر چھٹکارا پا کر…… آسانیوں سے ہمکنار ہو رہا تھا تو آخر مجھے امید بہار نہیں تو کیا خزاں کا پیراہن پہننا چاہیے؟“ ”ہر گز نہیں۔(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








