پنجاب میں میٹرک و انٹرمیڈیٹ امتحانات کیلئے طلبا کی بائیومیٹرک تصدیق لازمی قرار
پنجاب میں نقل کے خاتمے کے لئے نئے اقدامات
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پنجاب میں 2026 کے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ امتحانات میں نقل، جعلسازی اور بے ضابطگیوں کے خاتمے اور شفافیت بڑھانے کے لئے طلبا کی ڈیجیٹل بایومیٹرک تصدیق متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ فیصلہ لاہور بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (BISE) کے ایک اجلاس میں کیا گیا، جس میں پنجاب کے تمام نو تعلیمی بورڈز کے سینئر افسران شریک تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ریاض: وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات
بایومیٹرک تصدیق کی تفصیلات
اس اجلاس میں ہونے والے فیصلے کے تحت طلبا کی شناخت امتحانی ہال میں داخلے سے قبل ڈیجیٹل طور پر تصدیق کی جائے گی۔ یہ اقدام طلبا کی حقیقی شناخت کو یقینی بنانے اور امتحانی عمل میں شفافیت کو بڑھانے کے لئے کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا نے دیکھا کئی گنا بڑے دشمن کو گھٹنے ٹیکنے میں چند گھنٹے لگے: وزیر اعظم کا یوم تشکر پر پیغام
پریکٹیکل امتحانات میں اصلاحات
اجلاس میں پریکٹیکل امتحانات کے نظام میں بھی اصلاحات کی منظوری دی گئی، جن میں معیاری گریڈنگ سسٹم، لیبارٹریز میں سی سی ٹی وی مانیٹرنگ اور ڈیجیٹل مارکنگ سسٹم شامل ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد انسانی غلطیوں اور بدعنوانی کے امکانات کو کم کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنوں، نامعلوم افراد کی جانب سے اغوا کیے گئے ایس ایچ او عابد کو شہید کردیا گیا
امتحانی عملے کا معاوضہ
اس کے علاوہ امتحانی عملے اور نگرانوں کے معاوضے میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ دیانتداری کو یقینی بنایا جا سکے۔ ٹاسک فورس کمیٹی کے چیئرمین مزمل محمود نے سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی نے نتائج پر اثر انداز ہونے یا رشوت کے ذریعے مداخلت کی کوشش کی تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
عوامی اعتماد کی بحالی
حکام کے مطابق یہ اصلاحات پنجاب کے تعلیمی نظام پر عوام اور طلبا کے اعتماد کی بحالی اور امتحانات کو منصفانہ اور شفاف بنانے کے لئے کی جا رہی ہیں۔ لاہور بی آئی ایس ای نے تصدیق کی ہے کہ ان اصلاحات سے متعلق تفصیلی رہنما اصول 2026 کے امتحانی سیزن سے قبل تمام اسکولوں کے ساتھ شیئر کر دیئے جائیں گے۔








