سونے کے بعد تیل کی قیمتیں بھی گر گئیں
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی
نیویارک(ڈیلی پاکستان آن لائن) سونے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بھی نمایاں کمی کا شکار ہو گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: یکم اپریل سے اب تک کتنے غیر قانونی غیر ملکیوں کو واپس بھیجا جا چکا ہے۔۔؟ اہم تفصیلات سامنے آ گئیں
خام تیل کی قیمتوں میں کمی
بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں چار فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد توانائی کی عالمی منڈی میں غیر یقینی کی فضا برقرار ہے۔
کاروباری رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل 67 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 63 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی کی بڑی وجوہات میں عالمی معاشی سست روی کے خدشات، تیل کی طلب میں کمی اور بڑے پیداواری ممالک کی پالیسیوں سے متعلق غیر یقینی صورتحال شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے میئر نیویارک ظہرانہ ممدانی سے ملاقات طے ہونے کی تصدیق کردی
مہنگائی کے اثرات
اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور یورپ میں مہنگائی پر قابو پانے کے لیے سخت مالی پالیسیوں کے باعث صنعتی سرگرمیوں میں سست روی دیکھنے میں آ رہی ہے، جس سے تیل کی طلب متاثر ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ چین میں معاشی بحالی کی رفتار توقع سے کم رہنے نے بھی تیل کی عالمی طلب پر دباؤ ڈالا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: محسن نقوی کی امریکی سفیر نیٹلی بیکر سے اہم ملاقات، جعلی ویزا نیٹ ورک پر مشترکہ کارروائی پر اتفاق
اوپیک پلس کی حکمت عملی
دوسری جانب اوپیک پلس کی جانب سے مستقبل میں پیداوار سے متعلق واضح حکمت عملی سامنے نہ آنے کے باعث سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ مارکیٹ میں یہ خدشہ بھی پایا جا رہا ہے کہ اگر عالمی معیشت مزید دباؤ کا شکار ہوئی تو تیل کی قیمتوں میں مزید کمی دیکھنے میں آ سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف کا گزشتہ مالی سال 12 ہزار 970 ارب روپے کا ٹیکس ہدف پورا نہ ہونے پر تحفظات کا اظہار
ترقی پذیر ممالک پر اثرات
ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں کمی کا اثر ترقی پذیر ممالک پر دوہرا ہو سکتا ہے، جہاں ایک جانب درآمدی بل میں کمی سے کچھ ریلیف ملے گا، وہیں دوسری جانب توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری متاثر ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔
اجناس کی مارکیٹ کی صورتحال
واضح رہے کہ اس سے قبل سونے کی قیمتوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی تھی، جس کے بعد عالمی منڈی میں اجناس کی مجموعی صورتحال سرمایہ کاروں کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے。








