وزیراعظم سے ملاقات: دہشتگردی کیخلاف تعاون پر بات، بانی کے متعلق گفتگو نہیں ہوئی، سہیل آفریدی
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے مجھے ملاقات کی دعوت دی۔ ملاقات میں دہشت گردی کے خلاف تعاون پر بات ہوئی، بانی کے متعلق یا کوئی سیاسی بات نہیں ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل، ایران جنگ میں امریکہ کب شامل ہوگا؟ صحافی کے سوال پر صدر ٹرمپ نے جواب دے دیا
دہشت گردی کے واقعات کی مذمت
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ سب سے پہلے بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات پر مذمت کی۔ وزیراعظم سے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے تعاون پر گفتگو کی، صوبے کے لیے این ایف سی، این ایچ پی اور وفاق پر بقایا جات پر بات ہوئی، انہوں نے احسن اقبال کو ذمہ داری سونپ دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور قازقستان کی افواج کے درمیان مشترکہ مشقیں جاری
دہشت گردی کے خلاف موقف
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم سے دہشت گردی پر مشترکہ لائحہ عمل پر بات ہوئی۔ خیبرپختونخوا حکومت اپنی جیب سے 26 ارب روپے قبائلی اضلاع پر خرچ کر چکی ہے۔ دہشت گردوں کا کوئی صوبہ، ملک اور نہ ہی کوئی مذہب ہوتا ہے۔ دہشت گردی کی ہم سب کو بحیثیت پاکستانی مذمت کرنی چاہئے، ہمیشہ دہشت گردی کی مذمت کرتے رہیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: تعلیم اور صحت کے پی حکومت کی اولین ترجیحات ہیں: بیرسٹر سیف
پی ٹی آئی کے بانی سے ملاقات
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی، وزیراعظم سے کسی سیاسی چیز پر بات نہیں ہوئی۔ وادی تیراہ اور کرم کے لوگ قربانی دے رہے ہیں، اس کے سامنے یہ 4 ارب روپے کچھ بھی نہیں۔ وادی تیراہ اور کرم کے لوگ پاکستان کیلئے قربانی دے رہے ہیں، ایسے بیانات نہیں دینے چاہئیں جن سے ان کی دل آزاری ہو۔
وزیراعظم سے ملاقات کی اہمیت
سہیل آفریدی نے یہ بھی کہا کہ وزیراعظم سے آج کی ملاقات بطور وزیراعلیٰ میرے عہدے کا تقاضا تھا۔ بطور سیاسی ورکر شاید میں نہ بیٹھتا، خیبرپختونخوا اور عوام کے حقوق کیلئے وزیراعظم سے ملاقات ضروری تھی۔ دہشت گردی کے حوالے سے ایک اور خصوصی ملاقات ہو گی۔








