درخت کٹائی پر ہائی کورٹ برہم، ایڈووکیٹ جنرل کو میٹنگ کی ہدایت
لاہور ہائیکورٹ کا درختوں کی کٹائی پر سخت نوٹس
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے درختوں کی کٹائی کے معاملے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو وزیر اعلیٰ اور سینئر وزیر سے فوری میٹنگ کرنے کی ہدایت کر دی۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ حکومت کے بیانات اور زمینی حقائق میں واضح تضاد ہے، اگر درست اور بروقت کارروائی کی جائے تو کسی کی جرأت نہیں ہونی چاہیے کہ ایک درخت بھی کاٹ سکے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور سے اسلام آباد آنے والی ٹرین حادثے میں بال بال بچ گئی
سموگ سے متعلق درخواستوں کی سماعت
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے سموگ تدارک سے متعلق دائر درخواستوں پر سماعت کی۔ دوران سماعت عدالتی حکم پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ درخت اب بھی کیوں کاٹے جا رہے ہیں اور ٹیکسالی و شیرانوالہ کے علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے درخت کیسے کاٹ دیئے گئے؟ عدالت نے نشاندہی کی کہ ناصر باغ میں بھی ایک منصوبہ جاری ہے جہاں درخت منتقل کیے گئے مگر اس کا علم بعد میں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کی جوہری سائٹس پر امریکی حملے جنگی جرائم ہیں: مشاہد حسین سید
عدالت کی ترقیاتی منصوبوں پر ہدایت
عدالت نے ریمارکس دیے کہ ترقیاتی منصوبے جاری رکھیں مگر یہ بھی دیکھیں کہ کلائمیٹ چینج کس تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ایک درخت کو بڑا ہونے میں کئی سال لگ جاتے ہیں۔ عدالت نے پی ایچ اے سے سوال کیا کہ کوئی بھی شخص پی ایچ اے سے این او سی لے کر درخت کیسے کاٹ لیتا ہے؟ کیا پی ایچ اے کا کام ہر پارک میں پیڈل کورٹ بنانا ہے؟
یہ بھی پڑھیں: بچیاں پڑھ کر افسر بنیں تو لالہ دنیا سے جا چکے تھے، اچھے بھلے تھے کسی کو تکلیف دیئے بغیر ابدی گھر چلے گئے، نیک لوگوں کی روحیں یونہی پرواز کرتی ہیں
حکومتی پالیسی کی خلاف ورزی
عدالت نے مزید کہا کہ پی ایچ اے پارکس میں ریسٹورنٹس کیسے بنا سکتا ہے جبکہ حکومتی پالیسی واضح ہے کہ درخت نہیں کاٹے جائیں گے۔ جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ راتوں رات جس کا دل کرتا ہے درخت کاٹ دیتا ہے، حتیٰ کہ میو ہسپتال میں بھی درخت کاٹے گئے، لوگوں کو شاید احساس نہیں کہ ان سے پوچھ گچھ بھی ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں سیاسی بحران، محمد یونس نے عبوری سربراہ کے عہدے سے مستعفی ہونے کی دھمکی دیدی، تہلکہ خیز دعویٰ
اداروں کے درمیان رابطوں کی کمی
دوران سماعت ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے مؤقف اختیار کیا کہ اداروں کے درمیان رابطوں کا فقدان ہے جس پر عدالت نے کہا کہ درختوں کے معاملے پر بہت واضح ہدایات ہونی چاہئیں اور حکومت کی اجازت کے بغیر ایک شاخ بھی نہیں کٹنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: انڈیا اور کینیڈا کے درمیان کشیدہ سفارتی تعلقات کے دوران دو سال پہلے ہونے والے قتل کا اعتراف جرم
یورپی قوانین کی مثال
عدالت نے کہا کہ یورپ میں لوگ گھروں میں لگے پودوں کو بھی بغیر اجازت نہیں چھیڑ سکتے، ہمیں بھی اسی طرز کے قوانین بنانے ہوں گے۔ درختوں کو ذبح کیا جا رہا ہے اور اسے ہر صورت روکنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بحریہ کے 3 کموڈورز کی ریئر ایڈمرل کے عہدے پر ترقی دیدی گئی
درختوں کی منتقلی کی پالیسی
ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ٹیکسالی اور شیرانوالہ کے منصوبوں پر متعلقہ حکام سے میٹنگ ہو چکی ہے، ٹیکسالی میں 45 دن اور شیرانوالہ میں 15 دن تک درختوں کے قریب کوئی نہیں جائے گا۔ اس پر عدالت نے سوال کیا کہ کیا اس کے بعد درخت کاٹ دیے جائیں گے؟ ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ نہیں، درختوں کی منتقلی کے لیے باقاعدہ پالیسی بنائی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: خضدار میں دھماکا، بس میں سوار 4 بچے جاں بحق
حکومت کی ذمہ داریاں
عدالت نے ریمارکس دیے کہ درختوں کی منتقلی کے حوالے سے تاحال کوئی واضح پالیسی موجود نہیں، حکومت کے پاس وسائل ہیں کہ وہ آزاد ذرائع سے مؤثر پالیسی بنوائے۔ اگر کسی منصوبے کے دوران درخت آ جائے تو ڈیزائن میں تبدیلی کرنا ہوگی کیونکہ بڑے اور پرانے درختوں کی جڑوں کے مسائل ہوتے ہیں۔
مزید کارروائی ملتوی
بعد ازاں عدالت نے مختلف محکموں سے رپورٹس طلب کرتے ہوئے مزید کارروائی ملتوی کر دی۔








