برطانوی سیاست میں ہلچل، جیفری ایپسٹین سے تعلقات پر وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے قریبی ساتھی مستعفی
پیٹر مینڈلسن کا استعفیٰ
لندن (آئی این پی) برطانیہ کے سابق وزیر اور وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے قریبی ساتھی پیٹر مینڈلسن نے امریکی مالیاتی مجرم جیفری ایپسٹین سے تعلقات پر سامنے آنے والی نئی رپورٹس کے بعد لیبر پارٹی کی رکنیت سے استعفی دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: سروگیسی کیلئے اپنی کوکھ کرائے پر دینے والی 13 ماؤں کو سزا سنادی گئی
شرمندگی سے بچنے کی کوشش
برطانوی میڈیا کے مطابق مینڈلسن نے کہا ہے کہ وہ پارٹی کو مزید شرمندگی سے بچانا چاہتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق پیٹر مینڈلسن کو حالیہ دنوں میں ایک بار پھر ایپسٹین سے منسلک کیا گیا، جس پر انہوں نے لیبر پارٹی کو لکھے گئے خط میں افسوس اور معذرت کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی فائلز میں ان پر مالی لین دین کے جو الزامات لگائے گئے ہیں وہ غلط ہیں، اور وہ ان کی تحقیقات کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ریونیو میں اضافے کے لیے پی آئی اے کا ریاض ایئر کے ساتھ تاریخی کارگو معاہدہ
لیبر پارٹی کی رکنیت چھوڑنے کا فیصلہ
مینڈلسن نے اپنے خط میں لکھا کہ جب تک وہ ان الزامات کی چھان بین کر رہے ہیں، وہ لیبر پارٹی کو مزید نقصان نہیں پہنچانا چاہتے، اسی لیے پارٹی کی رکنیت چھوڑ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ سمیت چاروں ہائیکورٹس میں مستقل چیف جسٹسز تعینات کرنے کا فیصلہ
ماضی کے تنازعات
پیٹر مینڈلسن کو گزشتہ سال بھی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے امریکا میں برطانیہ کے سفیر کے عہدے سے ہٹا دیا تھا، جب ان کے ایپسٹین سے تعلقات سے متعلق دستاویزات منظرِ عام پر آئی تھیں۔ پیٹر مینڈلسن 1990 کی دہائی میں سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر کے دور میں لیبر پارٹی کی انتخابی کامیابیوں میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں، تاہم ان کا سیاسی کیریئر مختلف تنازعات سے بھی گھرا رہا ہے۔
وزیراعظم کیئر اسٹارمر کا بیان
دوسری جانب وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ برطانیہ کے سابق شہزادے اینڈریو کو بھی ایپسٹین سے تعلقات پر امریکی کانگریس کی کمیٹی کے سامنے گواہی دینی چاہیے۔








