بلوچستان کے جغرافیے کی وجہ سے وہاں پر بڑے پیمانے پر فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کی ضرورت ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف
وزیر دفاع خواجہ آصف کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے جغرافیے کی وجہ سے وہاں پر بڑے پیمانے پر فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آسٹریلوی بیٹر میتھیو ویڈ نے بین الاقوامی کرکٹ کو خیرباد کہہ دیا
اسمگلنگ کی روک تھام کے اقدامات
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے سختی کی، چمن بارڈر پر ایک بہت بڑا احتجاج بھی ہوا۔ لوگ کہتے ہیں کہ نیشنلسٹ تحریکوں کے ساتھ مذاکرات ہونے چاہئیں۔ ان لوگوں کی سیاسی نہ قوم پرست شناخت ہے، بنیادی طور پر کاروباری نقصانات کے ازالے کیلئے تحریک چلائی جا رہی ہے۔ یہ لوگ یومیہ تیل کی اسمگلنگ سے چار ارب روپے کما رہے تھے۔
جرائم پیشہ افراد اور بی ایل اے
وزیر دفاع نے کہا کہ بی ایل اے کے نام پر جرائم پیشہ لوگ ان اسمگلرز کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔ بلوچستان میں قبائلی عمائدین، بیوروکریسی اور علیحدگی پسند تحریک چلانے والوں کا گٹھ جوڑ بن چکا ہے۔ بلوچستان میں گزشتہ دو روز کے دوران 177 دہشت گرد مارے گئے، 16 سیکورٹی فورسز اور 33 عام شہری شہید ہوئے۔








