لٹکتے مٹکتے تحصیل لیاقت پور کے قدیم اور تاریخی قصبہ ”الہٰ آباد“ جا پہنچے، یہ ریاست بہاولپور کا ابتدائی صدر مقام تھا، تاریخی عمارات اب کھنڈر بن چکی تھیں
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 427
میرے اس انٹرویو بورڈ میں شامل ہونے کا واحد مقصد ان بچوں کی سلیکشن ہی تھی۔ اللہ کی کرم نوازی تھی کہ اللہ مجھ جیسے گناگار کو نیکی کے ایسے مواقع فراہم کرتا ہی رہا تھا۔ ہم تینوں میں سے کوئی بھی ان بچوں کو نہیں جانتا تھا۔ ہاں یاد آیا عامر کی سفارش پر میں نے اسٹنٹ انجینئر لوکل گورنمنٹ بہاول نگر ظفر کے بھانجے کو بھی بھرتی کیا تھا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ اللہ نے اس قسم کا اختیار مجھے دیا اور میں نے کوشش کی کہ اللہ کی خوشنودی کے لئے میں اس کے مستحق بندوں کے کچھ کام آ سکوں۔
انٹرویو بورڈ کے بعد کی خوشیاں
اس انٹرویو بورڈ کے بعد میں لاہور آیا تو یہ بپتا ابا جی کو سنائی۔ نہ صرف وہ خوش ہوئے بلکہ ڈھیروں دعائیں بھی دیں اور کہا؛ “بیٹا! تم نے چاچا، دادا کی روایات کو زندہ رکھا۔ اللہ تم سب کو اجر دے گا۔“ اللہ نے خوب دیا کہ والد کی بیماری میں خدمت کا موقع دے دیا۔ الحمد اللہ۔
نیکی کا ایک اور موقع
ایک روز دفتر میں تھا کہ ایک عورت آئی، مفلوک الحال اور بوسیدہ کپڑوں میں ملبوس۔ اس کے ساتھ اس کا نوجون بیٹا بھی تھا۔ وہ رنجائی آواز میں بولی؛ “پتر! کئی سال پہلے رنڈی ہو گئی سی۔ میرا بندہ تیرے ہی محکمے یونین کونسل دا نائب قاصد سی۔ تد میرا پتر نکا جیا سی ہن ایف اے کر چکیا اے۔ بڑے مہینوں توں نوکری دی درخواست تیرے دفتر میں جمع اے۔ پتر ہن تے فاقے ہون لگے نئیں۔”
اماں کو تسلی دی کہ “ہن ہور فاقے نئیں ہوں گے۔” خورشید صاحب کو بلا کر ایسی تمام درخواستیں جو رول 17(اے) کے تحت جمع تھیں پیش کرنے کو کہا۔ 2 ہی درخواستیں تھیں اور 2 ہی جونئیر کلرکوں کی اسامیاں خالی تھیں۔ دونوں بچوں کے قانون کے مطابق ٹیسٹ ہوئے۔ متعلقہ ٹیوٹا ادارے کے سربراہ کو خورشید صاحب نے فون کر کے “دونوں کو پاس کرنے کی سفارش کی تاکہ ان کو نوکری دی جا سکے۔” ہماری سفارش کی ضرورت ہی محسوس ہوئی کہ دونوں نے اپنی قابلیت پر ہی امتحان پاس کر لیا تھا۔ یوں اللہ نے ان گھروں سے غربت اور بھوک کم کرنے کا مجھے اور میرے ساتھیوں کو وسیلہ بنایا اور ایک اور نیکی ہمارے کھاتے میں لکھ دی تھی۔ نیکی کے ایسے کاموں میں خورشید صاحب بھی کنجوسی نہیں کرتے تھے۔ وہ بہترین ماتحت تھے اور مجھے یقین ہے عمدہ افسر بھی ہوں گے۔
الہٰ آباد کا کمال
ایک روز نواز، خورشید صاحب اور میں لٹکتے مٹکتے تحصیل لیاقت پور کے قدیم اور تاریخی قصبہ “الہٰ آباد” جا پہنچے۔ یہ قدیم قصبہ بہاول پور کے نوابوں کے جد امجد “امیر احمد سلطان” نے بسایا تھا اور یہی ریاست بہاول پور کا ابتدائی صدر مقام تھا۔ یہاں کی کچھ تاریخی عمارات اب کھنڈر بن چکی تھیں۔ ایک مقامی شخصیت آج بھی علاقے میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی تھی۔ یہ تھے مخدوم احمد عالم انور، سابق وفاقی وزیر اور عالم دین۔ آیا تو اس تاریخی قصبہ کی سیر کو تھا مگر گزرتے نظر یونین کونسل کے دفتر پر پڑی تو دفتر چلے آئے۔ میں الہٰ آباد سے بہاول پور رواں تھا کہ کمشنر آفس سے فون آیا۔ کمشنر نے پوچھا “کہاں ہیں آپ؟” بتایا؛ “سر! احمد پور ایسٹ سے کچھ پیچھے ہوں، گھنٹہ بھر میں ہیڈ کواٹرز پہنچ جاؤں گا۔” “آپ سیدھے میرے دفتر ہی آ جائیں۔” اپنی پسندیدہ “جمنی جیپ” خود چلا رہا تھا۔ کمال جیپ تھی، عمدہ روڈ گرپ اور خوب بھاگتی تھی۔ (جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب “بک ہوم” نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








