انسان کا سب سے بنیادی حق زندہ رہنے کا حق ہے جسے اولیت دی جانی چاہیے۔ جو اس بنیادی حق کو چھین رہا ہے اس کا مستعدی سے تعاقب کیا جائے۔
مصنف کی تفصیلات
مصنف: رانامیر احمد خاں
قسط: 295
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان میں گلوف کا الرٹ جاری
انسان کا حق زندہ رہنا
6: انسان کا سب سے بنیادی حق زندہ رہنے کا حق ہے جسے اولیت دی جانی چاہیے۔ جو اس بنیادی حق کو چھین رہا ہے اس کا مستعدی سے تعاقب کیا جائے۔ موجودہ کشمکش میں بلوچستان کے تمام باسی جن میں بلوچ، پشتون، ہزارہ، پنجابی آباد کار اور غیر مسلم شامل ہیں، ان تمام طبقات کے جذبات اور پریشانیوں کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے تمام طبقات کے جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔ اس مقصد کے لیے ایک کمیشن تشکیل دیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا کے ضلع ٹانک سے پولیو کا نیا کیس رپورٹ، ملک میں کیسز کی تعداد 18 ہوگئی
پاکستان دشمن عناصر
7: بلوچستان کے حالات خراب کرنے میں پاکستان دشمن بیرونی قوتوں کا نام اکثر سننے میں آتا ہے۔ آخر وہ کون لوگ ہیں جو ہزارہ قبیلے کے لوگوں کی ٹارگٹ کلنگ کر رہے ہیں۔ ان سوالات کا جواب مرتب کرنے کے لیے ایک علیٰحدہ متفقہ کمیشن بنایا جائے تاکہ بیرونی ہاتھوں کو بھی دنیا کے سامنے بے نقاب کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: 8 پاکستانیوں کا قتل: پاکستان میں ایرانی سفارتخانے کا بیان سامنے آگیا
مرکزی حکومت کی ذمہ داریاں
8: پاکستان کی مرکزی حکومت نے بلوچستان کے لوگوں کو دیگر صوبوں کے عوام کے قریب لانے کے لیے کوئی کام نہیں کیا۔ دیگر صوبوں، شہروں سے کوئٹہ کی پروازوں کا دوطرفہ کرایہ کم کیا جائے نیز اسلام آباد، لاہور تا کوئٹہ ریلوے سفر کو تیز رفتار اور محفوظ ترین بنایا جائے۔ گوادر اور کراچی کے درمیان بحری جہاز کا سفر اور حمل و نقل شروع کرنے کا جائزہ لیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹیبلشمنٹ یا دیگر جماعتوں سے پی ٹی آئی کی بات چیت میں سب سے بڑی رکاوٹ ان کا گالم گلوچ بریگیڈ ہے: رانا ثنااللہ
سیاحت اور تجارت کی ترقی
9: مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے بلوچستان میں سیاحت و تجارت کے فروغ کے لیے بس سروس، ٹرین اور بحری جہازوں کے ذریعے سفر کو محفوظ بنانے اور سستا کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا امریکہ، ایران-اسرائیل جنگ میں شامل ہوگا یا نہیں؟ ٹرمپ نے عندیہ دے دیا
تعلیمی اور صحت کی ضروریات
10: بلوچستان حکومت کو صوبے کے عوام کی تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور دیگر بنیادی ضروریاتِ زندگی کی فراہمی پر خصوصی توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ صوبائی حکومت میں اس وقت ایمانداری، شفافیت اور اچھے نظم و نسق کی اہلیت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ ماضی میں بلوچستان اسمبلی کے ہر رکن کو وزیر بنا دینے سے حالات میں کوئی بہتری نہیں ہوئی۔ حالات جوں کے توں ہیں۔ کارکردگی کے بغیر ماضی کے حکومتی اخراجات کو درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اسمبلی کا کام قانون سازی ہونا چاہیے اور ترقیاتی فنڈز کے خرچ کی ذمہ داری بلدیاتی نمائندوں کو دی جانی چاہیے جن کا انتخاب نہ کروا کے ہماری مرکزی و صوبائی حکومتیں آئین کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوتی رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کس جلن میں ٹی وی اور یاسر کا لیپ ٹاپ توڑا؟ ندا نے شوہر کے بیان پر لب کشائی کردی
سیاسی قیدیوں کی رہائی
11: تمام سیاسی قیدی اور لاپتہ افراد اگر ریاستی ایجنسیوں کے قبضہ میں ہیں انہیں فوراً رہا کروانے کے انتظامات کئے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کا پاکستان کی شہری آبادی پر حملہ شرمناک ہے،، ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کو کھری کھری سنا دیں
انکوائری کمیشن کی تشکیل
12: صوبائی حکومت کو چاہیے کہ ایک آزاد اور خودمختار انکوائری کمیشن بنائے تاکہ جو افراد اس کشیدہ صورت حال کی وجہ سے اپنی جانیں کھو بیٹھے ہیں یا معذور ہو گئے ہیں، ان کے گھر والوں کو مناسب معاوضہ اور ملازمت دینے اور ان کی داد رسی کے لیے صوبائی و مرکزی حکومت کو اقدامات تجویز کرے۔
دہشت گردی کا قلع قمع
پاکستان دشمن عناصر غیر ملکی ایجنٹوں کے تعاون سے دہشتگردوں کی تعداد میں اضافہ کر رہے ہیں۔ ایسی دہشت گردانہ سرگرمیوں کو سختی سے کچل دینا ہی ملک کے مفاد میں ہو گا۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








