آسانیوں کو گلے لگانے کا موڈ بنا کر گھر سے نکلا، پیچھے سے بڑی معصوم و دلفریب سرسراہٹ محسوس ہوئی، انجانی خوشی کی لہر سارے جسم کو باغ و بہار کر گئی۔
مصنف: ع۔غ۔ جانباز
قسط:46
یہ کیسے ممکن ہے…… خیر تو جناب اگلے روز میں آسانیوں کو گلے لگانے کا موڈ بنا کر گھر سے نکلا…… اور محمد اصغر کے گھر کے پاس سے آگے گزر گیا تاکہ محمد اصغر سہولت سے، آرام سے کسی دباؤ کے بغیر…… گھر سے نکلے۔ کوئی آدھا کلو میٹر گیا تھا کہ پیچھے سے کچھ مشینی کل پُرزوں کی بڑی معصوم و دِلفریب سرسراہٹ محسوس ہوئی۔ دل کو جس طرح میں نے سنبھالا وہ میں ہی جانتا ہوں یا میرا خدا…… ایک انجانی خوشی کی لہر سارے جسم کو ایک دم گرفت میں لے کر باغ و بہار کر گئی۔
محمد اصغر کا باہر جانا
اس کیفیت سے میں ابھی سنبھلنے نہ پایا تھا کہ ایک گھنٹی بجی اور میرا دوست، میرا ہمدم اُس مشینی پیکر کو بڑی سرعت سے اُڑائے میری نظروں کو کچھ دُھندلا سا کر گیا۔ جب میں نے صورتِ حال کا بغور جائزہ لینے کے لیے اپنی آنکھوں کو ہاتھوں سے کچھ مل کر اُن کی دُھندلاہٹ دُور کی تو پتا چلا کہ محمد اصغر تو کہیں دُور جا چکا تھا۔ میں اُمیدِ بہار کا مُتلاشی اپنی پہلی چال بھی بھُول گیا تھا اور بوجھل قدموں سے چلتے ہوئے اپنے اندازِ فکر کو لگام دی اور کہا کہ "پگلے یوں خیالی دنیا سے باہر نکلو اور حقیقتِ حال کا سامنا جوانمردی سے کرو۔"
کالج میں ملاقات
کالج میں محمد اصغر سے ملاقات ہوئی تو میں پھر اُسی خیالی دنیا میں لوٹ آیا اور اُس سے اس طرز عمل پر شکوہ کر بیٹھا۔ "محمد اصغر نے بڑی لاپرواہی سے سمجھانے کے موڈ میں آکر کہا کہ گھر والوں نے سختی سے منع کیا ہے کہ نئے سائیکل پر دوسری سواری ہرگز نہیں بٹھانی اور میں اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔"
والد کی کوششیں
چار پانچ مہینے اسی طرح کالج آتا جاتا رہا۔ اس دوران والد صاحب جن کا نواں شہر (انڈیا) میں اپنا دواخانہ جس کا نامِ نامی "دو آبہ سنیاسی کمپنی" تھا اپنے سابقہ تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے گاؤں میں "مطب" کا آغاز کردیا اور اس طرح آمدنی میں اضافہ شروع ہوگیا۔ دوسری زرعی زمین جس پر قبضہ تھا اُس میں کاشت شروع کی جا چکی تھی اور وہاں سے بھی کچھ نہ کچھ وصول ہونے لگا۔ تو پھر والد صاحب کو بھی اپنے فرزندوں کی سہولت کی سوجھی۔ مجھے گورنمنٹ کالج کے "نیو ہوسٹل" میں داخل کروا دیا گیا۔ پھر شب و روز سہولت سے گذرنے لگے۔ اگلے سال چھوٹا بھائی عبد الرشید "زراعتی کالج" میں داخل ہُوا اور ہوسٹل میں رہنے لگا。
کالج کا پہلا سال
کالج کا پہلا سال نا جانے کیسے اور کیوں آنکھ جھپکتے گذر گیا۔ دوسرا سال شروع ہوگیا اور نئے داخلے شروع ہوگئے۔ نئے آنے والوں سے کالجوں میں جو سلوک ہوتا ہے وہ تو وہی جانتے ہیں جن کو تختہ مشق بنایا جاتا ہے۔ اس دوران ایک لڑکے "محبوب الہٰی" سے واسطہ پڑا۔ نہ جانے اُس کے چہرے پر سجی دائمی مسکراہٹ کیونکر اثر کر گئی کہ اُس سے ہلکی پھلکی دوستی کا آغاز ہوگیا۔
دوستی کی ترقی
ابھی اس دوستی کے پودے کی آبیاری ہونی تھی کہ ایک لڑکا "رحمت علی ورک" بیچ میں آن ٹپکا بس پھر کیا تھا وہ دونوں چند دنوں میں یک جان دو قالب ہوگئے اور میں منہ دیکھتے رہ گیا۔ لیکن سینئر ہونے کے ناطے اُن کی رہنمائی کی آڑ میں محبوب الہٰی کی سرور آور مسکراہٹ سے خوشہ چینی کرتا رہا۔ اور اگر اس کو مبالغہ نہ سمجھا جائے تو اب بھی ترانوے سال پھلانگ کر بھی جب محبوب الہٰی کی مسکراہٹ یاد آجائے تو نا جانے کیوں خود کو کچھ توانا سا محسوس کرنے لگتا ہوں۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








