سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی کا وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے بیان پر ردِ عمل آ گیا
جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل کا وزیر اعلیٰ سندھ پر ردعمل
لاہور (طیبہ بخاری سے) سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی کا وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے بیان پر ردِ عمل آ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا افغانستان میں سفیر تعینات کرنے کا فیصلہ
مراد علی شاہ کا بیان
تفصیلات کے مطابق سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان امیر العظیم نے وزیراعلیٰ سندھ کے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان سے متعلق بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ مراد علی شاہ شاید بھول گئے ہیں کہ عوام نے کراچی میں میئر اور قومی انتخابات کے دوران جماعت اسلامی کو ووٹ دیا تھا، مگر پیپلز پارٹی نے طاقت، دھونس اور دھاندلی سے شہر کی میئر اور قومی و صوبائی کی نشستوں پر قبضہ کر لیا۔ قابضین کو قابض ٹولہ نہ کہیں تو کیا کہا جائے؟ مراد علی شاہ صوبہ اور شہر کراچی کے مسائل پر توجہ دیں۔
یہ بھی پڑھیں: اداکار گودندا کی حالت بہتر، ہسپتال سے ڈسچارج
عوامی حقوق اور مظاہروں کا حق
امیر العظیم کا مزید کہنا تھا کہ مظاہرے اور دھرنے عوام کا جمہوری حق ہے، پیپلز پارٹی یہ حق عوام سے نہیں چھین سکتی۔ کراچی کے عوام نے جینے دو کراچی مارچ میں ریکارڈ شرکت کرکے بااختیار مقامی حکومتوں کے قیام کے حق میں فیصلہ سنا دیا ہے۔ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم سے کراچی کے عوام بدظن ہیں، لوگ کسی صورت بھی دونوں کو قبول کرنے کو تیار نہیں۔ فارم سنتالیس سے آئے ہوئے حکمران ٹولہ نے کراچی کو تباہ کردیا۔ پیپلز پارٹی گزشتہ سترہ برس سے صوبہ پر قابض ہے اور اسٹیبلشمنٹ کی اے ٹیم کے طور پر کام کر رہی ہے۔ حکمران پارٹی صوبہ کے فنڈز کا حساب دے۔
یہ بھی پڑھیں: اب پاکستان فرسٹ نہیں سیکیورٹی فرسٹ ہوگا، اہم میٹنگ میں بڑے فیصلے کرلیے گئے، اینکر محمد مالک کا دعویٰ
جماعت اسلامی کی نشستیں اور آئندہ تحریک
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے جتنی نشستیں جیتی تھیں وہ اسے واپس کی جائیں اور قومی و صوبائی اسمبلیوں سے فارم 47 کے قبضہ گیروں کو فارغ کیا جائے۔
تاریخی دھرنا اور عوامی حمایت
امیر العظیم نے کہا کہ جماعت اسلامی 14 فروری کو کراچی میں تاریخی دھرنا دے گی۔ عوام کے حقوق کی جدوجہد بھرپور طریقے سے جاری رہے گی۔ جماعت اسلامی نے جس نظام بدلو تحریک کا آغاز کیا ہے، وہ اپنے مقاصد کے حصول تک جاری رہے گی۔ کراچی کے عوام دھرنا میں بھرپور شرکت یقینی بنائیں۔ عوام اپنے حقوق کی حفاظت کے لیے جماعت اسلامی کا ساتھ دیں۔








