رکن پنجاب اسمبلی احمر بھٹی نے مقامی حکومتوں کے بجٹ کے لیے پی ایف سی شیئر پر اہم اعتراض اٹھا دیا

احمر بھٹی کا پی ایف سی شیئر پر اعتراض

لاہور (نیوز ڈیسک) رکن پنجاب اسمبلی احمر بھٹی نے مقامی حکومتوں کے بجٹ کیلیے پی ایف سی شیئر کے حوالے سے اہم اعتراض اٹھا دیا۔

یہ بھی پڑھیں: مودی سرکار نے بھارتی اداروں کو ’’سیاسی ہتھیار ‘‘میں بدل دیا، عوام کے بجٹ کے غلط استعمال پر آوازیں اٹھنے لگیں

بجٹ کی تقسیم کی تفصیلات

تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ایم پی اے احمر بھٹی نے پنجاب حکومت کی جانب سے مقامی حکومتوں کے بجٹ کے لیے صوبائی فنانس کمیشن (پی ایف سی) شیئر کو 37.5 فیصد کی بجائے صرف 17.5 فیصد ظاہر کرنے پر شدید اعتراض کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آن لائن جوئے کی تشہیر، سوشل میڈیا انفلوئنسرز اقرا کنول عرف سسٹرولوجی، ندیم مبارک عرف نانی والا اور محمد حسنین شاہ کے خلاف 3 مقدمات درج

اجلاس میں اعتراضات کی وضاحت

یہ اعتراض پنجاب اسمبلی میں مالی سال 26-2025 کی دوسری سہ ماہی کے بعد از بجٹ بحث کے دوران سامنے آیا ہے۔ احمر بھٹی نے پنجاب کے وزیر خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمان کو ایک خط لکھا ہے جس میں انہوں نے اس حساب کتاب اور اعلان کی وضاحت طلب کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ناکام بھارت اور جے شنکر کا سفارت کاری سے فرار

بجٹ کا مجموعی حجم

بجٹ دستاویزات کے مطابق صوبائی کل بجٹ کا حجم 5,335 ارب روپے ہے جبکہ مقامی حکومتوں کو منتقل ہونے والا پی ایف سی شیئر تقریباً 934.2 ارب روپے (یعنی 17.5 فیصد) دکھایا گیا ہے۔ احمر بھٹی کا کہنا ہے کہ یہ فیصد قانونی فریم ورک اور 2017 کے انٹریم پنجاب فنانس کمیشن ایوارڈ سے مطابقت نہیں رکھتا۔

یہ بھی پڑھیں: الحمداللّٰہ پاکستانی قوم کو مبارک، فیلڈ مارشل کی بطور چیف آف ڈیفنس تقرری ہوگئی، فیصل واوڈا

قانونی تنازعات

انٹریم پی ایف سی ایوارڈ 2017 کے مطابق مقامی حکومتوں کو 37.5 فیصد ملنا چاہیے، نہ کہ 17.5 فیصد۔ احمر بھٹی نے پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹس 2013، 2022 اور 2025 کی ترامیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر نیا ایوارڈ منظور نہ ہو تو پرانا ایوارڈ جاری رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان اور بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ ٹو کیس کا ٹرائل رکوانے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا

سپریم کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ

انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلوں کا بھی حوالہ دیا، جیسے MQM بمقابلہ حکومت پاکستان (PLD 2022 SC 439) اور عمرانہ تیوانہ بمقابلہ پنجاب (CLD 2015 983)، جن میں مقامی حکومتوں کو ان کے جائز شیئر دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ 17.5 فیصد کی شرح آئینی طور پر غیر قانونی اور سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہے، جو آرٹیکل 140-A اور 156(3) کی خلاف ورزی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سیالکوٹ: تمام تر کوششوں کے باوجود ٹریفک پولیس وائرل چاچا کے سائز کا ہیلمٹ نہ مہیا کر سکی،DSP مبشر قادر کا ہیلمٹ کے لیے خصوصی ٹیم لاہور روانہ کرنے کا اعلان

وزیر خزانہ کے لیے مطالبات

احمر بھٹی نے وزیر خزانہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 934.2 ارب روپے کے حساب کی مکمل تفصیلات، استعمال شدہ فارمولا، قانونی بنیاد اور بیس (جیسے خالص آمدنی یا دیگر) بتائیں۔ اگر یہ غلطی ہے تو تصحیح جاری کی جائے، ورنہ یہ الٹرا وائرز ہوگا اور چیلنج کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مشال یوسفزئی پر 43 کروڑ کا الزام چند ’’قربِ گوش دانشوروں‘‘کی چالاکی بے نقاب کرنے پر لگایاگیا،شیر افضل مروت

محکمہ خزانہ کا موقف

دوسری جانب خزانہ محکمہ کے ایک سینئر افسر نے ’’ڈان‘‘ کو بتایا کہ موجودہ تقسیم انٹریم پی ایف سی 2017 کے تحت ہو رہی ہے، جو پی ٹی آئی کی حکومت کے وقت بھی یہی تھی۔ نیا کمیشن بننے تک یہی جاری رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں: مستونگ؛نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 2لیویز اہلکار جاں بحق

وزارت کی وضاحت

افسر نے وضاحت کی کہ یہ اتنا سادہ نہیں کہ براہ راست 37.5 فیصد لگایا جائے، کیونکہ ’’37.5 فیصد کس چیز کا‘‘ اہم ہے۔ یہ کام نیا کمیشن کرے گا۔

جواب نہ ملنے کی صورت

لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ (LG&CD) ڈیپارٹمنٹ کے سیکریٹری نے اس بارے میں جواب نہیں دیا۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...