کوئٹہ بلدیاتی انتخابات و حلقہ بندیوں سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ
کوئٹہ بلدیاتی انتخابات کا کیس
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی آئینی عدالت نے کوئٹہ بلدیاتی انتخابات و حلقہ بندیوں سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی کوچ گوتم گمبھیر اور ویرات کوہلی کے درمیان اختلافات مزید بڑھ گئے: بھارتی بیٹر کا اہم ٹورنامنٹ کھیلنے سے انکار
سماعت کی تفصیلات
روزنامہ جنگ کے مطابق جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کوئٹہ بلدیاتی انتخابات و حلقہ بندیوں سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ فیصلے میں بلدیاتی انتخابات کے لیے ٹائم لائن دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ چین کا امکان
ایڈووکیٹ جنرل کا بیان
ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ 2022ء میں قانون میں تبدیلی کر کے کوئٹہ کو میٹروپولیٹن سٹی قرار دیا گیا۔
جسٹس روزی خان نے ریمارکس دیئے کہ کوئٹہ 10 کلومیٹر کا شہر ہے، اتنے بڑے آفس کے باوجود الیکشن کمیشن 10کلومیٹر علاقے کی حلقہ بندیاں نہیں کر سکتا، کوئٹہ کی حلقہ بندیاں تو 2 ہفتوں میں بھی ہو سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نارووال میں نجی کالج میں زیرِتعلیم طالبہ کی خودکشی کی کوشش، لاہور ریفرکردیا گیا
جسٹس عامر فاروق کی آراء
جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ الیکشن کمیشن رضامندی دے تو اپریل میں کوئٹہ کے بلدیاتی انتخابات کرادیں؟ اب 5 سال تو اس مقدمے کو زیرِ التوا نہیں رکھیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پرامن زندگی گزارنے کا موقع دیں۔۔۔ باجوڑ کے عوام کا دہشتگردوں کے خلاف احتجاج، انگریزی جریدے کی گمراہ کن رپورٹنگ پر شدید ردعمل
الیکشن کمیشن کی صورتحال
الیکشن کمیشن کے ڈی جی لاء نے کہا کہ ابھی تو پنجاب اور اسلام آباد میں بھی کام کر رہے ہیں۔
جس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا وعدہ بھی الیکشن کمیشن نے وفا نہیں کیا، الیکشن کمیشن تو نہ کرنے والی باتیں کر رہا ہے، اسلام آباد میں الیکشن کروانے کا وعدہ تھا، میں ہائی کورٹ سے سپریم کورٹ کا جج بنا اور پھر آئینی عدالت کا، لیکن الیکشن نہ ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: پریانکا گاندھی نے مودی کی تقریر کو سکول میں ریاضی کا پیریڈ قرار دیدیا
حکومتی اقدامات
الیکشن کمیشن کے نمائندے نے کہا کہ حکومت کی جانب سے قانون تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ جس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ خدارا ایسے نہ کریں۔
الیکشن کمیشن کے نکات
الیکشن کمیشن کے ڈی جی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو صرف کوئٹہ حلقہ بندیوں کے لیے 90 روز درکار ہوں گے۔
ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے کہا کہ مجھے حکومت سے ہدایات لینے کی مہلت دی جائے۔








