ایرانی صدر نے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی اجازت دے دی
ایران کے صدر کا امریکی مذاکرات پر موقف
ایران(ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ قومی مفادات کے تحفظ کے لیے امریکا کے ساتھ مذاکرات کیے جا سکتے ہیں، تاہم ان میں دھمکیوں اور غیر معقول توقعات سے گریز کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں چھاپے کے دوران نقدی اور زیورات چوری کرنے والا اےایس آئی معطل
سوشل میڈیا پر بیان
صدر پزشکیان نے منگل کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں یہ مؤقف اختیار کیا، انہوں نے کہا کہ دوست علاقائی ممالک کی جانب سے امریکا کے صدر کی مذاکرات کی تجویز پر ردِعمل دینے کے مطالبات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے وزیر خارجہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ منصفانہ اور مساوی بنیادوں پر بات چیت کے لیے ماحول سازگار بنانے کی تیاری کریں۔
In light of requests from friendly governments in the region to respond to the proposal by the President of the United States for negotiations:
— Masoud Pezeshkian (@drpezeshkian) February 3, 2026
یہ بھی پڑھیں: بنگلادیش: جہانگیر نگر یونیورسٹی طلباء یونین انتخابات میں اسلامی طلبہ شبہ بھاری اکثریت سے کامیاب ہو گئی
مناسب ماحول کی ضرورت
صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات اسی صورت ممکن ہوں گے جب ایسا ماحول قائم ہو جس میں کسی قسم کی دھمکیاں اور غیر معقول توقعات شامل نہ ہوں، انہوں نے واضح کیا کہ ایران قومی مفادات کے تحفظ کو مقدم رکھتے ہوئے ہی کسی بھی ممکنہ سفارتی عمل میں پیش رفت کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: 5 ہزار روپے کے نوٹ کی بندش، بڑی آواز بلند ہوگئی
نظام حیرت کا ذکر
ایک اور ایکس پوسٹ میں ایرانی صدر نے کہا کہ یہ مذاکرات ہمارے قومی مفادات کے دائرۂ کار میں ہی کیے جائیں گے۔
I have instructed my Minister of Foreign Affairs, provided that a suitable environment exists—one free from threats and unreasonable expectations—to pursue fair and equitable negotiations, guided by the principles of dignity, prudence, and expediency.
— Masoud Pezeshkian (@drpezeshkian) February 3, 2026
یہ بھی پڑھیں: تعلیمی اداروں کے لیے موسم سرما کی تعطیلات کا شیڈول جاری
امریکی صدر کی طرف سے مذاکرات کی تصدیق
یاد رہے کہ منگل کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور انہیں امید ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کوئی معاہدہ طے پا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایف بی آر نے کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں بڑے ڈاکٹرز اور مہنگے بیوٹی پارلرز کا آڈٹ شروع کر دیا
انتہائی حالات اور خطرات
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بڑا بحری بیڑا ایران کی جانب گامزن ہے، اگر ڈیل طے نہ ہوئی تو ایران کے لیے برے نتائج ہوں گے، ایک طرف فوجی تیاری جاری ہے جبکہ دوسری جانب ایران کے ساتھ مذاکرات بھی ہو رہے ہیں۔
سپریم لیڈر کا انتباہ
اس سے قبل ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اتوار کو خبردار کیا تھا کہ اگر امریکا نے جنگ شروع کی تو یہ تنازع پورے خطے میں پھیل سکتا ہے.








