ارفع کریم کے والد بیٹی کی 31 ویں سالگرہ پر جذباتی ہو گئے
ارفع کریم رندھاوا کی 31 ویں سالگرہ
اسلام آباد (آئی این پی) دنیا کی کم عمر ترین مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل ارفع کریم رندھاوا کی 31 ویں سالگرہ کے موقع پر ان کے والد امجد کریم رندھاوا اپنی بیٹی کو یاد کر کے جذباتی ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: قائداعظم ٹرافی کا 26 اکتوبر سے آغاز ہوگا، ٹورنامنٹ میں سولہ ریجنز کی اٹھارہ ٹیمیں حصہ لیں گی
والد کا جذباتی پیغام
انہوں نے سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک پر اپنی پوسٹ میں بیٹی کی زندگی کے یادگار لمحات کی کچھ تصاویر شیئر کیں۔ ارفع کریم کے والد نے بیٹی کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے کیپشن میں لکھا کہ "میری پیاری ارفع، آج تم 31 برس کی ہوتیں"، یہ جملہ لکھتے ہوئے ہاتھ نہیں کانپتا بلکہ دل کانپ جاتا ہے کیونکہ باپ کیلئے برس گننا آسان ہوتا ہے، خالی پن گننا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شیخ مجیب اگرتلہ سازش کیس میں قید تھے تو اُنکے خصوصی نائب ڈاکٹر کمال الدین بھٹو کے ساتھ رابطے میں تھے، بھارت اس خوفناک سازش کا اہم مرکز تھا
زندگی کے سوالات اور دکھ
انہوں نے لکھا کہ "تمہاری جدائی کے بعد زندگی سیدھی لکیر نہیں رہی بلکہ ہر دن ایک نیا سوال تھا، کبھی خود سے، کبھی تقدیر سے اور اکثر خاموش آسمان سے، بہت کچھ سہنا پڑا، وہ دکھ بھی جو لفظوں میں نہیں سموتے، وہ فیصلے بھی جو تنہائی میں کرنے پڑے اور وہ ذمے داریاں بھی جو آنسو پونچھ کر اٹھانی پڑیں۔"
یہ بھی پڑھیں: ملک کے بعض علاقوں میں موبائل فون سروس معطل
امید اور عہد
ارفع کریم کے والد نے لکھا کہ "مگر میں نے ہارنا نہیں سیکھا، تم ہمارے لئے آزمائش نہیں تھیں بلکہ اس بات کی طرف اشارہ تھیں کہ علم عبادت ہے، سادگی طاقت ہے اور خلوص سب سے بڑی ذہانت ہے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ "تمہاری کمی نے ہمیں توڑا ضرور مگر بکھرنے نہیں دیا اور اسی درد کی وجہ سے ارفع کریم فانڈیشن نے جنم لیا اور یہ کوئی ادارہ نہیں بلکہ ایک عہد ہے کہ جو چراغ تم نے جلایا تھا وہ بجھنے نہیں دیا جائے گا، ان شا اللہ۔"
یہ بھی پڑھیں: 9 مئی مقدمات: پی ٹی آئی کے غیر حاضر کارکنان کے وارنٹ گرفتاری جاری
اللہ سے دعا
ارفع کریم کے والد نے بیٹی کے لیے دعا کرتے ہوئے لکھا کہ "سکون سے رہو، میری بچی! تمہارا نام اب ایک ذمے داری ہے، تمہاری زندگی ایک سمت ہے اور تمہاری یاد ایک امانت ہے جسے ہم ثابت قدمی سے نبھا رہے ہیں۔"
انہوں نے مزید لکھا کہ "اے اللہ! میری ارفع کو اپنی رحمت کے اس حصے میں جگہ دے جہاں نہ وقت کی گرفت ہو، نہ حساب کی سختی، اس کے مختصر مگر بامعنی سفر کو قبول فرما اور اس کے نام سے جڑی ہر نیکی کو اس کے لیے صدق جاریہ بنا دے۔"
آخری الفاظ
ارفع کریم کے والد نے پوسٹ کے آخر میں لکھا ہے کہ "اے ربِ کریم! مجھے یہ حوصلہ عطا فرما کہ میں دکھ میں بھی شکوہ نہ کروں، امتحان میں بھی کمزور نہ پڑوں اور اس امانت کا حق ادا کرتا رہوں جو تو نے مجھے ایک باپ ہونے کی صورت میں سونپی، آمین۔"








