بانیٔ پی ٹی آئی کی آنکھ ضائع ہوسکتی ہے، ملاقات پر پابندی لگانا انتقامی کارروائی ہے: علامہ راجہ ناصر عباس سینیٹ میں بول پڑے
سینیٹ میں علامہ راجہ ناصر عباس کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ بانیٔ پی ٹی آئی کی آنکھ ضائع ہوسکتی ہے۔ آپ انہیں ان کی مرضی کے ڈاکٹر سے چیک کروائیں۔ بانیٔ پی ٹی آئی ایک پاپولر سیاسی لیڈر ہیں، چاہے کوئی مانے یا نہ مانے، دنیا مانتی ہے، اور غیر پاکستانی بھی ان کا پوچھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مناہل ملک اور امشا کے بعد ایک اورسیلیبریٹی کی فحش ویڈیو لیک ہو گئی
قیدی کے حقوق اور ملاقاتی پابندیاں
سینیٹ اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے راجہ ناصر عباس نے کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کے حقوق ہیں، جو شہری اور قیدی دونوں حیثیتوں سے ان کا حق بنتے ہیں۔ ان کی قید ظالمانہ اور غیر قانونی ہے۔ بانیٔ پی ٹی آئی کو ان کے حق سے کیوں محروم کیا گیا؟ ان کی بیماری کا ان کی فیملی کو کیوں نہیں بتایا گیا؟ یہ ایک جرم ہے۔ یہ بنیادی حق ہے جو انہیں نہیں ملا۔
انتقامی کارروائی اور ڈاکٹروں تک رسائی
’’جنگ‘‘ کے مطابق راجہ ناصر عباس نے مزید کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کی ملاقات پر پابندی انتقامی کارروائی ہے۔ اگر کہا جائے کہ وہ سیاسی بیان دیتے ہیں تو کیا ایک سیاستدان سیاسی بیان نہیں دے گا؟ بانی کی بیوی کون سا سیاسی بیان دیتی ہیں؟ انہیں اہلخانہ سے ملنے کیوں نہیں دیتے؟ بانیٔ پی ٹی آئی کی آنکھ ضائع ہوسکتی ہے، آپ انہیں ان کی مرضی کے ڈاکٹر سے چیک کروائیں۔ کیوں لاپرواہی کرتے ہیں؟ ہمیں آرڈر کرنا چاہیے کہ بانیٔ پی ٹی آئی سے ہماری ملاقات کرائی جائے۔ بانی کو ڈاکٹرز تک رسائی دی جائے، اور ان کے گھر والوں سے ملاقات کرائی جائے۔ سینیٹرز جیل جا کر وزٹ کر سکتے ہیں، اور ہم مل کر وہاں چلتے ہیں، وہاں کے اسپتال کا معائنہ کرتے ہیں۔








