ہائی ویز کے پل گرانا کون سے حقوق ہیں؟ سکول کالج بینکس جل رہے ہوں تو پھر محرومی کا بیانیہ نہیں بنتا: طلال چودھری
وفاقی وزیر کا اظہار خیال
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے کہ ہائی ویز کے پل گرانا کون سے حقوق ہیں؟ سکول، کالج، بینک جل رہے ہوں تو پھر محرومی کا بیانیہ نہیں بنتا۔ ہر بار کہہ دینا کہ ایجنسی اٹھاتی ہے، آپ خود پہاڑوں پر چڑھ جائیں، روپوش ہو جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: شام: کرد فورسز کے ساتھ چار روزہ جنگ بندی ختم، صورتحال غیر یقینی
مسنگ پرسنز کی تعداد
’’جنگ‘‘ کے مطابق قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسنگ پرسن اڑھائی ہزار سے کم ہیں، یورپ اور مغرب کے نمبر دیکھ لیں، کتنے مسنگ پرسن ہیں۔ یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ آزادی کی جنگ نہیں، ان کا مقصد لوگوں سے بھتہ لینا، لوٹ مار اور پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا ہے۔ ظلم، مظلومیت اور محرومی کا بیانیہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، اگر این ایف سی میں شیئر بلوچستان کا پنجاب سے زیادہ ہو تو اسے کوئی نہیں دکھاتا، اگر کوئی یہ بتانے کے بجائے کہے کہ محرومی ہے، یہ غلط ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آپریشن سندور کتنی دیر جاری رہا اور اہداف دراصل کیا تھے؟ بھارت کا موقف آگیا۔
بلوچستان کی ترقی
وفاقی وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا بلوچستان معدنیات سے مالا مال ہے، چاغی میں 5 ایسے منصوبے ہیں جہاں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری پر کام شروع ہو گیا ہے۔ بلوچستان میں 13 کیڈٹ کالج ہیں جو کسی صوبے میں نہیں، ٹیکنیکل سکولز اور ووکیشنل کالج 321 ہیں، بلوچستان میں 13 بڑے ہسپتال ہیں۔ بلوچستان میں 25000 کلومیٹر کے قریب سڑکیں ہیں، دہشت گرد اگر لوگوں کی جنگ لڑ رہے ہیں تو یہ سکولوں، اسپتالوں اور بینکوں پر حملہ کیوں کرتے ہیں؟
حقوق کی جنگ یا دہشت گردی؟
طلال چودھری کا مزید کہنا تھا کہ اگر یہ حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں تو ہائی ویز کے پل گرانا کون سے حقوق ہیں؟ اگر سکول، کالج اور بینکس جل رہے ہوں تو پھر محرومی کا بیانیہ نہیں بنتا، لاپتہ افراد کا کمیشن کام کر رہا ہے۔ وزیرِ داخلہ وہ وزیر تھے جو کوئٹہ پہنچے، اس واقعے کے علاوہ وزیرِ داخلہ ایک درجن سے زائد دفعہ خود گئے ہیں، ان کے اپوزیشن لیڈر نے جعفر ایکسپریس واقعے کی مذمت نہیں کی۔








