بلوچستان میں ریاستی ردِعمل کو غیر معمولی طور پر مؤثر رہا، طلعت حسین

سکیورٹی صورتحال کا جائزہ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) اینکر پرسن طلعت حسین کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں حالیہ 72 گھنٹوں کے دوران سکیورٹی صورتحال پر اعلیٰ ترین سطح پر پیش کیے گئے جائزے میں ریاستی ردِعمل کو غیر معمولی طور پر مؤثر قرار دیا گیا ہے۔ سرکاری بریفنگز میں بتایا گیا ہے کہ اس عرصے میں 197 دہشت گرد ہلاک کیے گئے، جبکہ 33 شہری اور 17 قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار شہید ہوئے۔ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کی مجموعی نفری کا تخمینہ تقریباً 1500 جنگجوؤں پر مشتمل ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ چند ہی دنوں میں تنظیم کی 13 سے 15 فیصد افرادی قوت کا خاتمہ کر دیا گیا، جو کسی بھی عسکری تنظیم کے لیے ایک بڑا دھچکا سمجھا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان سوشل سینٹر شارجہ اور سافٹ امیج پاکستان کی جانب سے محفل شعر و نغمہ، پاکستانی محنتی اور دیانتدار ہیں، ملک اسلم۔

حملوں کی کوششیں اور سیکیورٹی فورسز کا ردعمل

طلعت حسین کے مطابق حکومتی جائزے میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردوں نے ایک ہی وقت میں بلوچستان کے 12 مختلف مقامات پر مربوط حملے کرنے کی کوشش کی، تاہم سکیورٹی فورسز کی بروقت پیش بندی اور فوری جوابی کارروائی کے باعث ان حملوں کی تباہ کاری محدود رہی۔ ہر حملے میں ہلاکتوں کی اوسط 2.5 سے 3 رہی، جسے بین الاقوامی معیار کے مطابق کم شدت یا کم اثر انگیزی والا نتیجہ تصور کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت ڈرون جنگ کا آغاز ہوچکا، بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں کس کے ڈرون نظام کو بہتر قرار دیا؟

ریاست اور دہشت گردوں کے جانی نقصان کا تناسب

اینکر کے مطابق سرکاری جائزے میں ریاست اور دہشت گردوں کے درمیان جانی نقصان کے تناسب کو بھی غیر معمولی طور پر ریاست کے حق میں قرار دیا گیا ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ہر ایک سکیورٹی اہلکار کی شہادت کے مقابلے میں اوسطاً 11 سے زائد دہشت گرد مارے گئے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سکیورٹی فورسز کو واضح عسکری اور عملی برتری حاصل رہی۔ فورسز کا نقصان محدود رہنا اس امر کا ثبوت ہے کہ کارروائیاں منظم منصوبہ بندی، درست انٹیلی جنس اور مؤثر حکمتِ عملی کے تحت کی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکہ کی جارحیت بے بنیاد، ایرانی عوام کی مدد کریں گے: روسی صدر پیوٹن

کارروائیوں کے اثرات

طلعت حسین کا مزید کہنا تھا کہ حالیہ آپریشنز کا دائرہ کار، رفتار اور جغرافیائی پھیلاؤ اس بات کی علامت ہے کہ یہ محض علامتی جوابی کارروائیاں نہیں تھیں بلکہ دہشت گرد نیٹ ورکس کی منصوبہ بندی، نقل و حرکت اور تنظیمی ڈھانچے کو براہِ راست متاثر کرنے والی کارروائیاں تھیں۔ ان اقدامات کے نتیجے میں دہشت گردوں کے آپریشنل سائیکل میں خلل پڑا اور ان کی آزادانہ نقل و حرکت شدید طور پر محدود ہو گئی۔

بین الاقوامی معیار کے مطابق ردعمل

حکومتی جائزے میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر ان کارروائیوں کو عالمی انسدادِ دہشت گردی کے معیارات پر پرکھا جائے تو بلوچستان میں پاکستان کا ردِعمل اعلیٰ درجے کی کارکردگی کا مظہر ہے، جو دنیا کی صفِ اول کی انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے برابر قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ نتائج نہ صرف زمینی سطح پر ریاستی بالادستی کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ مستقبل میں دہشت گردی کے خطرات کو کم کرنے کی سمت ایک اہم پیش رفت بھی سمجھے جا رہے ہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...