خیبرپختونخوا دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہے، ہمارے ساتھ بیٹھ کر پالیسی بنائی جائے، ہم نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد چاہتے ہیں، اسد قیصر
اسد قیصر کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) رکن اسمبلی اسد قیصر کا کہنا ہے کہ یہاں ایوان میں ایک حکومتی وزیر موجود ہیں، مجھے بتایا جائے کہ اتنے زیادہ بیرون ملک دورے ہوئے کوئی ٹریڈ ڈیل دکھائی جائے جو واقعی ہوئی ہو۔ ہم سمجھتے تھے کہ انڈیا اور امریکا کی دشمنی ہے، لیکن ان کی تو 18 فیصد ٹیرف پر ٹریڈ ڈیل ہوئی ہے اور یورپی یونین کے ساتھ بھی ان کی ڈیل ہو رہی ہے۔ ٹرمپ کبھی کہتا تھا کہ اتنے جہاز گرے، اتنے گرے، اور انڈیا کے ساتھ ڈیل کر رہا ہے۔ ہمیں اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرنی چاہئے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں جسم فروشی کے دھندے میں ریکارڈ یافتہ شخص کی موت ہو گئی
دہشت گردی کا خاتمہ اور بین الاقوامی رابطے
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہیں، ہمارے ساتھ بیٹھ کر پالیسی بنائی جائے۔ ہم دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں اور نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد چاہتے ہیں۔ اگر ایران اور امریکا استنبول میں بیٹھ سکتے ہیں، یا پاکستان اور بھارت ایک دوسرے سے بات چیت کر سکتے ہیں، تو افغانستان کے ساتھ بات چیت کیوں نہیں ہو سکتی؟ ہمیں اپنے تحفظات حل کرنے چاہئیں، لیکن ڈپلومیٹک چینل کا استعمال بھی ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ترکیہ میں شادی کی خوشی میں ہوائی فائرنگ سے دولہا جاں بحق، ملزمہ گرفتار
عمران خان کی جیل میں حالت
ہمارا لیڈر عمران خان جیل میں ہے، اور اسے اپنے قانونی حق، یعنی ملاقاتوں کا حق، نہیں دیا جا رہا۔ یہاں تک کہ جب کسی قیدی کو ہسپتال منتقل کیا جاتا ہے تو اس کے خاندان کو آگاہ کیا جاتا ہے، لیکن عمران خان کو اس حق سے بھی محروم رکھا گیا ہے۔ ان کے ذاتی معالج، جو سیاسی بھی نہیں ہیں، ان سے بھی ملاقات نہیں کروائی جاتی۔ 26ویں اور 27ویں ترامیم کے بعد انصاف کا نظام ختم ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ایسوسی ایشن دبئی میں فیوچر فیسٹ ایجوکیشن اینڈ کیریئر ایکسپو کا انعقاد، قونصل جنرل حسین محمد کی بھی شرکت
بلوچستان میں عناصر
اسد قیصر نے مزید کہا کہ آج ایک بہت اہم موضوع پر بحث ہو رہی ہے۔ بلوچستان میں جو واقعات ہوئے ہیں، جن میں عام سویلینز اور سیکیورٹی فورسز کے اہلکار شہید ہوئے ہیں، ہم ان واقعات کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ واقعات بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں تسلسل کے ساتھ ہو رہے ہیں۔ اگر ہم ان واقعات کی root causes کا جائزہ نہیں لیں گے، اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی نہیں کریں گے، تو یہ بات آگے نہیں بڑھے گی۔ ہم سب پاکستانی ہیں، اور جب اس قوم کا کوئی ایک شہری، ایک جوان، پولیس اہلکار یا سیکیورٹی فورسز کا اہلکار شہید ہوتا ہے تو ہمیں تکلیف ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موٹر وے ایم فائیو پر ٹریفک حادثہ، 4 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے
انتخابات کا شفاف نظام
اسد قیصر نے کہا خاص طور پر 8 فروری کو جو ہوا، عوام سے بنیادی حق، یعنی ووٹ کا حق، چھین لیا گیا۔ عوام ووٹ کسی ایک کو دیں اور اسمبلی میں کوئی اور بیٹھ جائے۔ جب تک ملک میں انتخابات کا نظام شفاف نہیں ہوگا، عوام کے نمائندوں کو ان کا بنیادی حق نہیں ملے گا، تو عوام اس نظام سے disconnect رہیں گے۔ ہم ملک میں ایک آزاد الیکشن کمیشن چاہتے ہیں، ایسا الیکشن کمیشن جو صاف اور شفاف انتخابات کروائے، عوام کے ووٹ کو عزت دی جائے اور ایک حقیقی پارلیمنٹ وجود میں آئے۔
صوبائی وزرا اور ترقی
انہوں نے کہا کہ ایک صوبے کا وزیر اعلیٰ اڈیالہ جیل کے باہر بیٹھا ہے اسکو اپنے لیڈر سے ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی جبکہ دوسرے صوبے کی وزیر اعلیٰ سرکاری جہاز میں بیٹھ کر چین اور برازیل جاتی ہے۔ اُس کو فنڈ مل رہے ہیں اور پھر کہتے ہیں پنجاب بہت ترقی کررہا ہے۔ آپ میرٹ پر آئیں ہمارا NFC کا حصہ دیں.








