ایسی حماقتوں کا اپنا ہی ”سواد“ تھا، وہ اپنے گاؤں چلے گئے میں اپنے دفتر۔ حیران ہوں کہ ہم جو کہتے ہیں کرتے نہیں اور جو کرتے ہیں کہتے نہیں
مصنف کی شناخت
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 428
یہ بھی پڑھیں: نوشہرہ: زہریلا کھانا کھانے سے 3 بہن بھائی جاں بحق، ماں کی حالت تشویشناک
کمشنر کے ساتھ ملاقات
میرے پہنچنے سے پہلے ہی مخدوم احمد انور کمشنر دفتر موجود تھے۔ میں انہیں تب سے جانتا تھا جب وہ پرویز الٰہی کی پہلی وزارت اعلیٰ کے دوران وفاقی وزیر تھے۔ ہمارے دفتر کلاس چہارم کے کوٹہ میں ملی نوکریاں میں اضافہ کے لئے آیا کرتے تھے۔ وہ مجھے پہچان نہ سکے۔ میں نے کلاس چہارم کے ملازمین کے کوٹہ سے زیادہ سیٹوں کے لئے بڑے بڑے گھروں کے چراغوں کو منت ترلے کرتے دیکھا تھا۔ مجھے دیکھ کر کمشنر بولے؛ "لو وہ ڈایریکٹر صاحب بھی آگئے ہیں۔ آپ انہیں جانتے ہیں ڈائریکٹر صاحب۔" میں نے جواب دیا؛ "سر! یہ تو مجھے نہیں پہچانتے پر میں انہیں تب سے جانتا ہوں جب یہ وفاقی وزیر تھے۔" ان کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی، ساتھ ہی میں نے کمشنر صاحب کو بتایا؛ "سر! یہ راجہ بشارت صاحب کے دفتر میں نائب قاصد کے کوٹے میں اضافہ کے لئے آیا کرتے تھے۔" مخدوم صاحب کے چہرے پر پھیلی مسکراہٹ غائب ہو گئی۔ اب یہ کمشنر کے چہرے پر تھی۔ سیکرٹری معطل کرنے کے حوالے سے ساری بات انہیں بتائی جو پہلے ہی فون پر ان کے علم میں لا چکا تھا اور ساتھ ہی تینوں ایف آئی آر کی کاپیاں اور دس لاکھ غبن کی دستاویزات بھی ان کی میز پر رکھ دیں۔ وہ اپنے گاؤں چلے گئے اور میں اپنے دفتر۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کو جان لینا چاہیے کوئی بھی دیوار آزادی کی خواہش روک نہیں سکتی: وزیر اعلیٰ مریم نواز
حاصل پور کا واقعہ
میں آج بھی حیران ہوں کہ ہم جو کہتے ہیں کرتے نہیں اور جو کرتے ہیں کہتے نہیں۔ دو غلے نہیں ہیں کیا ہم؟
یہ بھی پڑھیں: بیوروکریسی میں تقرر و تبادلے
ٹی ایم اے حاصل پور میں تجربات
حاصل پور؛ ٹی ایم اے حاصل پور کے چھوٹے ادارے میں بڑا افسر (کردار کے حساب سے) تھا۔ یہاں چوہدری صفدر گل ایم پی اے تھے۔ جنہوں نے اپنے گھر کے سامنے والی پکی سڑک کے کنارے بنی دوکانوں کے آگے دیوار چن دی تھی۔ منطق عجیب تھی، صرف انہی دوکانوں کے سامنے سے گزرنے سے بے پردگی ہوتی تھی، بازار میں نہیں۔ شکایت ہوئی اور اے سی جی شاہد مجید نے انکوائری ایم پی اے کی حسب منشا کر کے رپورٹ کمشنر کو بھجوا دی۔ اس رپورٹ پر عوامی رد عمل ہوا اور دوسری انکوائری کے لئے مجھے نامزد کیا گیا۔ میں نے ٹی ایم اے حاصل پور پہنچا، نقشہ نکلوایا، سائیٹ پر گیا۔ ایم پی نے بلا جواز سرکاری زمین پر دھونس سے دیوار بنا کر چند دوکانوں کا کاروبار ہی ٹھپ کر دیا تھا۔ ویسے بھی اس کا گھر ان دوکانوں سے سو میٹر دور تو ضرور ہوگا۔ بہرحال رپورٹ کمشنر کو بھجوانے سے پہلے موصوف ایم پی اے صفدر گل میرے دفتر آئے اور اے سی جی شاہد مجید کی طرز کی رپورٹ لکھنے کی درخواست کی جو میں نے یہ کہہ کر رد کر دی کہ میں حقیقت پر مبنی رپورٹ ہی لکھوں گا۔
یہ بھی پڑھیں: شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی برسی پر عام تعطیل کا اعلان
کمشنر کے دفتر میں بحث
رپورٹ معہ نقشہ موقع کمشنر کو بھجوائی۔ دو تین روز بعد کمشنر نے مجھے بلا بھیجا۔ گیا تو کمشنر کے پاس شاہد مجید، ایم پی اے موصوف اور ٹی ایم او حاصل پور بھی تشریف رکھتے تھے۔ کمشنر کہنے لگے؛ "آپ کی اور شاہد مجید کی رپورٹ میں بہت فرق بلکہ دونوں متضاد رپورٹس ہیں۔ کون سی ٹھیک ہے؟" ایم پی اے بولا؛ "شاہد مجید صاحب کی رپورٹ درست ہے۔" میں نے جواب دیا؛ "سر! مجھے نہیں پتہ شاہد مجید کی رپورٹ کیسے لکھی گئی تھی البتہ میری رپورٹ ہی درست اور ٹی ایم اے ریکارڈ کے مطابق ہے۔ تمام ضروری کاغذ لف ہیں۔" ایم پی اے بولا؛ "سر! کیا شاہد مجید نے ریکارڈ نہیں دیکھا تھا؟" کمشنر بولے؛ "چوہدری صاحب! what my director is saying, is law." ایم پی اے اور شاہد مجید ہکا بکا رہ گئے تھے۔ ایسی حماقتوں کا اپنا ہی "سواد" تھا۔
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








