بلدیاتی نظام کو کامیاب نہیں ہونے دیا جاتا، عوام کو حقوق بلدیاتی نمائندے ہی دے سکتے ہیں۔ منصفانہ انتخاب کیلئے طبقاتی نظام کو ختم کرنا ضروری ہے۔
مصنف: ران اً امیر احمد خاں
قسط: 296
پاکستان میں حقیقی جمہوریت کے تقاضے
سیمینار میں مقررین کی فکر انگیز تقاریر کا خلاصہ درج ذیل ہے:
رمضان میو سماجی رہنما
شفاف الیکشن کے لیے الیکشن کمشن نیوٹرل ہونا چاہیے۔ جس کی تقرری بذریعہ سپریم کورٹ کی جائے کیونکہ غیر جانبدار، صاحب کردار الیکشن کمیشن کی تشکیل ایک دوسرے کی جانی دشمن سیاسی جماعتوں کے بس کاروگ نہیں۔
رانا شاہد ایڈووکیٹ
آج تک عوام کی حکومت قائم نہیں ہو سکی۔ ہمیشہ مفاد پرست طبقہ حکومت میں آ جاتا ہے۔ یہ حقیقی جمہوریت نہیں ہے۔ حقیقی جمہوریت کے لیے بلدیاتی انتخابات بہت ضروری ہیں۔ عام انتخابات اور بلدیاتی انتخابات کا تواتر ضروری ہے۔ شناختی کارڈ کا کمپیوٹرائزڈ سسٹم موجود ہے۔ جس سے فوری چیکنگ ہو سکتی ہے۔ مگر اس سسٹم کو سیاسی قبضہ گروپوں نے غیر مؤثر کر رکھا ہے۔
انجینئر کرنل (ر) عبدالرزاق بگٹی، ماہر آبی وسائل
ہماری جمہوریت میں ذات برادری، گروپ بندی، ذاتی مفادات کو پیش نظر رکھا جاتا ہے۔ ووٹ غیر محسوس طور پر جانبداری سے دئیے جاتے ہیں۔ مزارعوں کے ووٹ وڈیروں کے ماتحت ہیں۔ بلدیاتی نظام کو کامیاب نہیں ہونے دیا جاتا۔ عوام کو مفادات اور حقوق بلدیاتی نمائندے ہی دے سکتے ہیں۔ منصفانہ انتخاب کے لیے سکریننگ اور طبقاتی نظام کو ختم کرنا ضروری ہے۔
میجر (ر) صدیق ریحان
جمہوریت جاگیرداروں، سرمایہ داروں کا نظام ہے۔ یہاں پارلیمانی جمہوریت نہیں چل سکتی۔ ہمیں صدارتی نظام کی ضرورت ہے۔ جس میں صدر کا انتخاب عوام کے ڈائریکٹ ووٹوں سے کیا جائے اور صدر کو مکمل اختیار حاصل ہوں۔
عوام دوست دفعات پر کبھی عمل نہیں ہوا:
- یہاں وراثتی سیاست چل رہی ہے۔ سیاست دانوں کے وارث اپنے بزرگوں سے زیادہ کرپٹ ہوتے ہیں۔
- پاکستان میں کوئی منی لانڈرنگ کا قانون نہیں ہے۔ جس کا فائدہ کرپٹ حکمران اْٹھا رہے ہیں۔
- عوامی مفادات کے معاملات کی ترجیحات ہونی چاہیے۔ سب سے پہلے ڈیم بنائے جانے چاہئیں۔ بجلی اور پانی کی وافر فراہمی ضروری ہے تاکہ انڈسٹری چلے۔ روزگار ملے۔
- میڈیا تجارتی و کاروباری ادارہ بن گیا ہے۔ میڈیا ملکی مفاد اور ضابطہ اخلاق کو نظرانداز کر رہا ہے۔ میڈیا کی آزادی مادرپدر آزادی نہیں ہونی چاہیے۔ پاکستان کا برا چہرہ میڈیا دکھا رہا ہے۔ جھوٹی خبر ثابت ہونے پر ان کے خلاف فوجداری مقدمہ بننا چاہیے۔ جھوٹے اشتہار نہیں چلنے چاہئیں۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








