وفاقی آئینی عدالت نے ارشد شریف قتل کیس نمٹاتے ہوئے فیصلہ جاری کر دیا
وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی آئینی عدالت نے ارشد شریف قتل کیس نمٹاتے ہوئے فیصلہ جاری کر دیا۔ ارشد شریف قتل کیس کا فیصلہ وفاقی آئینی عدالت کے جسٹس عامر فاروق نے تحریر کیا جس میں کہا گیا کہ پاکستان اور کینیا کے درمیان میوچل لیگل اسسٹنس پر دستخط ہو چکا ہے ، اس وقت عدالتی مداخلت کی ضرورت نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ اسمبلی ارکان کی تنخواہ ساڑھے 4لاکھ روپے مقرر کرنے کی منظوری
تحریری فیصلہ اور اس کی اہمیت
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ سوموٹو کیس اور تمام متعلقہ درخواستیں نمٹائی جاتی ہیں۔ وفاقی آئینی عدالت کا کہنا ہے کہ ارشد شریف کے قتل پر صحافتی برادری اور پاکستانیوں کا دکھ سمجھتے ہیں، پاکستان اور کینیا کی حکومتیں مناسب اقدامات کر رہی ہیں، عدالتی مداخلت کی ضرورت نہیں ہے۔ تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ ورثا کسی بھی معاملے پر متعلقہ عدالتوں سے رجوع کر سکتے ہیں۔
ارشد شریف کا قتل
خیال رہے کہ 23 اکتوبر 2022 کو کینیا کے شہر نیروبی میں مگاڈی ہائی وے پر پولیس نے ارشد شریف کو سر پر گولی مار کر قتل کیا تھا۔ بعدازاں کینیا کی پولیس کی جانب سے واقعہ غلط شناخت کا قرار دیا گیا تاہم ارشد شریف کے قتل کیس کی تحقیقات میں کینیا پولیس کے مؤقف میں تضاد پایا گیا۔








