دوسرے صوبوں میں حکومت جعلی یہاں اصلی، ترقی کیوں نہیں ہورہی؟ طالبہ کا سہیل آفریدی سے سوال
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کا طالبہ کے ساتھ مکالمہ
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے ایک تقریب کے دوران طالبہ کے ساتھ دلچسپ مکالمہ ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی بینک پاکستان کو مختلف منصوبوں کیلئے 2 ارب ڈالر سے زائد قرض دے گا
طالبہ کا سوال
نجی ٹی وی چینل 24نیوز کے مطابق، طالبہ نے سوال کیا، "جعلی حکومتیں ترقی کر رہی ہیں، کے پی اصلی حکومت میں بھی 13 سال سے کیوں پسماندہ ہو رہا ہے؟ آپ ادھر اُدھر کی باتیں کر رہے ہیں، بتائیں صوبے کو کیا دیا؟"
یہ بھی پڑھیں: ایم پی ایز اور ایم این ایز نہیں چاہتے کہ ادارے بااختیار ہوں کیونکہ ان کی چوہدراہٹ پر آنچ آتی ہے، جبکہ بیوروکریسی عیاشی چھوڑ کر عوامی خدمت کرنے کو تیار نہیں ہے۔
وزیرِ اعلیٰ کا جواب
وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ "آپ کا تعلق ضرور اے این پی یا کسی دوسری پارٹی سے ہو گا۔"
یہ بھی پڑھیں: موسیقی کی آوازیں بھی آنا شروع ہوگئی تھیں، سنگترے کا رس اور کباب کی پلیٹ منگوا لی، مصریوں کے بیلے اور کیبرے ڈانس کے بارے میں بڑا کچھ سنا تھا
طالبہ کی تنقید
طالبہ نے کہا، "جتنی بھی ترقی ہوئی ہے، ایم پی اے اور ایم این اے کے گھروں میں ہوئی، صوبے میں جو کرپشن ہوئی ہے، اس کا آپ نے کیا کیا؟ دوسرے صوبوں سے ہمارے صوبے کا موازنہ کیا جائے کہ ہم نے کتنی ترقی کی ہے۔"
یہ بھی پڑھیں: عمران خان سمیت دیگر کے خلاف 26 نومبر کے مقدمات، انسداد دہشتگردی عدالت نے حاضر ملزمان کو چالان کی نقول تقسیم کردیں
وزیرِ اعلیٰ کے دلائل
وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ "ہم نے صوبے کے نوجوانوں کو سوال کرنے کا شعور دیا ہے۔ یہ شعور دیا ہے کہ ایک بہن مجھ سے میری پالیسی پر سوال کر رہی ہیں۔ اے این پی کے دور میں بم دھماکے ہوتے تھے، این کے دور میں نشتر ہال بند تھا، ہم نے کھول دیا۔"
ترقی کے دعوے
انہوں نے مزید کہا، "جنوبی پنجاب میں لوگ سکولوں میں جانور باندھتے ہیں، سندھ میں آج بھی ہسپتالوں میں کتے گھوم رہے ہیں۔ پشاور میں ترقی آرہی ہے، 200 ارب روپے کی سکیمیں لے کر آرہے ہیں، قبائلی اضلاع میں ایک ہزار ارب روپے خرچ ہوں گے۔"








