اندھیروں میں امید
صبح کی شروعات
سائرہ کے گھر میں صبح ہمیشہ ایک آہ سے شروع ہوتی تھی۔ امی کی کھانسی، چولہے کی مدھم آنچ، اور صحن میں رکھی بالٹی میں ٹپکتا نل—یہ سب مل کر دن کا اعلان کرتے تھے۔ سائرہ بستر سے اٹھتے ہی سب سے پہلے امی کے پاس جاتی، ان کے لیے پانی رکھتی، پھر بھائی کو آواز دیتی۔ ابو کو گزرے تین سال ہو چکے تھے، مگر ان کی کمی ہر کمرے میں محسوس ہوتی تھی، خاص طور پر اس وقت جب مہینے کے آخر میں پیسے کم پڑ جاتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: یکطرفہ اور بالادستی کو عوامی تائید حاصل نہیں ہوتی ، چینی صدر
ذمہ داریاں سنبھالنا
ابو کے بعد گھر کی ذمہ داری سائرہ پر آ گئی تھی۔ وہ ایک اسکول میں آیا کا کام کرتی تھی اور شام کو ایک گھر میں برتن دھوتی تھی۔ تھکن اس کے چہرے پر صاف دکھائی دیتی تھی، مگر وہ کبھی شکایت نہیں کرتی تھی۔ اسے یاد تھا ابو کہا کرتے تھے، “بیٹی، حالات جیسے بھی ہوں، انسان کو انسان رہنا چاہیے۔” یہی بات اسے ہر دن سنبھالے رکھتی تھی.
یہ بھی پڑھیں: ہنی ٹریپ کے ذریعے نوجوانوں کا اغوا اور کچے کے ڈاکوؤں کی سہولت کار مشہور ٹک ٹاکر عروسہ سولنگی گرفتار
مشکلات کا سامنا
ایک دن اسکول سے واپسی پر سائرہ نے دیکھا کہ امی خاموش بیٹھی ہیں، آنکھیں سوجی ہوئی تھیں۔ پاس رکھا ہوا کاغذ بل تھا—بجلی کا آخری نوٹس۔ اگر دو دن میں رقم نہ دی گئی تو کنکشن کاٹ دیا جانا تھا۔ سائرہ نے کاغذ ہاتھ میں لیا تو انگلیاں کانپنے لگیں۔ اس رات وہ دیر تک سو نہ سکی۔ چھت کو تکتے ہوئے اسے پہلی بار لگا کہ شاید وہ سب کچھ نہیں سنبھال پائے گی.
یہ بھی پڑھیں: کیا عورت کی جان اتنی سستی ہے کہ کسی بات پر رضامندی ظاہر نہ کرنے پر موت کے گھاٹ اتار دی جائےگی؟ فواد چوہدری کی اہلیہ نے سوال اٹھا دیا
نئی کوششیں
اگلے دن وہ ایک اور کام کی تلاش میں نکلی۔ گرمی تیز تھی، پیر جل رہے تھے، مگر دل میں ایک ہی خیال تھا کہ گھر کی روشنی بجھنے نہیں دینی۔ کئی دروازے کھٹکھٹائے، کہیں جواب نہ ملا، کہیں انکار۔ شام تک اس کی آنکھوں میں آنسو اتر آئے تھے، مگر وہ روئی نہیں۔ وہ جانتی تھی کہ اگر وہ ٹوٹ گئی تو گھر بکھر جائے گا.
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنوں نے دھرنا دیدیا
نئی ملازمت
اسی شام ایک پڑوسن نے اسے بتایا کہ ایک سلائی سینٹر میں کام والی کی ضرورت ہے۔ سائرہ بغیر وقت ضائع کیے وہاں پہنچ گئی۔ مالک خاتون نے اس کے ہاتھ دیکھے، اس کی بات سنی، اور کہا، “تنخواہ زیادہ نہیں، مگر دل سے کام کرنا ہوگا.”
یہ بھی پڑھیں: چیرات میں تیسری پاک – مراکش مشترکہ دو طرفہ فوجی مشق 2025کا انعقاد، سپیشل فورسز کی شرکت
پہلا اجرت
سائرہ نے سر ہلا دیا۔ اسے رقم سے زیادہ موقع چاہیے تھا۔ چند دنوں کی محنت کے بعد اسے پہلی اجرت ملی۔ رقم کم تھی، مگر اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے—خوشی سے۔ اس نے سیدھا جا کر بجلی کا بل جمع کروایا۔ جب رات کو بلب جلا تو سائرہ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ وہ روشنی کسی بلب کی نہیں تھی، وہ امید کی تھی.
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (بدھ) کا دن کیسا رہے گا ؟
بہتری کی طرف بڑھنا
وقت کے ساتھ سائرہ نے سلائی سیکھ لی۔ آمدنی تھوڑی بہتر ہوئی۔ بھائی دوبارہ اسکول جانے لگا۔ امی کی دوا وقت پر آنے لگی۔ زندگی آسان نہیں ہوئی، مگر قابلِ برداشت ہو گئی.
یہ بھی پڑھیں: اطلاعات ہیں بشری بی بی کی رہائی کیلئے پیشکش ہوئی ہے، شیرافضل مروت
امید کی روشنی
ایک رات سائرہ چھت پر بیٹھی آسمان دیکھ رہی تھی۔ ستارے کم تھے، مگر موجود تھے۔ اس نے دل ہی دل میں ابو سے کہا، “میں نے ہمت نہیں ہاری.”
سبق سکھانے والی کہانی
اور شاید یہی اس کہانی کا سبق تھا—کہ جو لوگ خاموشی سے روتے ہیں، وہی سب سے مضبوط ہوتے ہیں، اور جو ذمہ داری کو محبت بنا لیتے ہیں، ان کے لیے زندگی آہستہ آہستہ راستہ بنا ہی دیتی ہے.
.
نوٹ: یہ مصنفہ کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
.
اگر آپ بھی ڈیلی پاکستان کیلئے لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’[email protected]‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔








