حکومت کا مسافروں کو آف لوڈ کرنے کے عمل کو قانونی تحفظ دینے کا فیصلہ
حکومت کا مسافروں کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایئرپورٹس پر مسافروں کو جہازوں سے آف لوڈ کرنے کے تنازعے پر حکومت نے مسافروں کو قانونی تحفظ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ قواعد و ضوابط تیار کر لیے گئے ہیں اور یہ وزارت داخلہ کو منظوری کے لیے بھیجے جا چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کی فیس 10 لاکھ روپے کرنے کے دعووں پر “بھائیو، کبھی پڑھ بھی لیا کرو” کا مشورہ
قواعد و ضوابط کی تیاری
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق، حکام وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ مسافروں کو آف لوڈ کرنے کے عمل کو قانونی تحفظ دینے کے لیے قواعد و ضوابط تیار کر لیے گئے ہیں۔ یہ قواعد وزارت داخلہ کو منظوریدہنے کے لیے موصول ہو چکے ہیں اور ان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ قواعد کی منظوری کے بعد ہائی رسک مسافروں کو قانونی طور پر آف لوڈ کیا جا سکے گا۔ ایسے مسافروں کو آف لوڈ کیا جاتا ہے جن کے طرز عمل سے غیر قانونی ارادے واضح ہوں۔
ماضی کے اعداد و شمار
دستاویز کے مطابق، گزشتہ 3 سال کے دوران ایک لاکھ 47 ہزار 842 مسافروں کو آف لوڈ کیا گیا۔ 2023 میں 35 ہزار 270 اور 2024 میں 39 ہزار 214 مسافر آف لوڈ کیے گئے۔ 2025 میں 73 ہزار 358 مسافروں میں سے 45 ہزار 356 تکنیکی بنیاد پر آف لوڈ ہوئے۔ تکنیکی بنیادوں میں پرواز کی منسوخی، خرابی، خراب موسم یا مسافر کا خود سے نہ جانا شامل ہے۔








