بیچلرز کو مکان کرایہ پر نہ دینے والی پالیسی غیرقانونی قرار
وفاقی محتسب کا فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت نے بیچلرز مرد و خواتین کے لیے ہاؤسنگ سوسائٹیز میں پابندیوں اور رہائشی سہولت سے محروم کرنے والی پالیسی کو غیرقانونی اور غیر آئینی قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب: دفعہ 144 میں مزید 7 روز کی توسیع، احتجاجی سرگرمیوں پر پابندی برقرار
خاتون کی درخواست اور ہراسانی کا معاملہ
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق وفاقی محتسب فوزیہ وقار نے ایک خاتون کی درخواست پر فیصلہ سنایا، جس میں بیچلر ہونے کی بنیاد پر گھر کرایہ پر دینے سے انکار کیا گیا تھا۔
درخواست گزار کے مطابق کرایہ دار کی جانب سے خاتون کو ہراساں کرنے کے لیے پانی و بجلی جیسی بنیادی سہولیات بھی زبردستی منقطع کر دی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: نوجوان شاعر کامران حسانی کے شعری مجموعہ کلام “گلِ تازہ” کی رونمائی اور تمغہء فکروفن کا اجراء
وفاقی محتسب کے نکات
وفاقی محتسب نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ ازدواجی حیثیت یا صنف کی بنیاد پر بیچلر ہونا رہائش سے محروم کرنے کی کوئی قانونی وجہ نہیں بن سکتی۔ ایسے اقدامات مساوات، انسانی وقار اور رہائش کی آزادی جیسے بنیادی آئینی اصولوں کی خلاف ورزی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ڈی آئی خان سے نجی کمپنی کے 11 ملازمین اغواء، 5 کو بازیاب کرا لیا گیا
اقدامات اور ابزرویشنز
فوسپا کی جانب سے اس حوالے سے ابزرویشن وفاقی و صوبائی حکام، رینٹ کنٹرولرز، ہاؤسنگ ریگولیٹرز، مقامی حکومتوں اور ہاؤسنگ سیکٹر کے تمام متعلقہ فریقین کو ارسال کر دیے گئے ہیں۔
کیس کا تصفیہ
خیال رہے کہ درخواست کے تصفیہ ہونے پر کیس نمٹا دیا گیا۔








