عدالت میں پیش ہونا بھی بڑا ناگوار تجربہ تھا، کئی بار سرکاری گھر شام کو ملاقات ہو جاتی۔ گپ شپ لگاتے۔ ایک رات اسے صحرائی کھانے پر بھی لے گیا
مصنف کی معلومات
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 429
یہ بھی پڑھیں: قیمتیں کم اور اشیاء خالص تھیں، دیسی گھی کھانے والے کو آج پینڈو سمجھا جاتا ہے یا حسرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، ڈبل روٹی بیماروں کی خوراک تھی۔
عدالت کا تجربہ
جج قاسم خاں کی عدالت میں؛ بطور افسر میرا ہائی کورٹ کے جج کی عدالت میں پیش ہونا بھی بڑا ناگوار تجربہ تھا۔ افتخار چوہدری کی بحالی کے بعد کی معزز عدلیہ کے جج سرکاری ملازمین کے حوالے سے تلخ رویہ اختیار کرنے لگے تھے۔ وہ معمولی سی بات پر بھی سخت الفاظ میں سر زنش کرتے۔ یوں محسوس ہوتا وہ کسی کی بات کا سارا غصہ سرکاری بندوں پر برسا دیتے تھے۔ ایسے ہی ایک جج قاسم خاں بھی تھے، بعد میں یہ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بھی رہے۔
یہ بھی پڑھیں: سیلاب متاثرین کی امداد؛ پوری قوم ایک ساتھ۔ سول ڈیفنس رضاکاروں کی رجسٹریشن کیلئے آن لائن پورٹل جاری
مقدمہ کا منظر
محکمہ لوکل گورنمنٹ کے ایک ٹھیکیدار کی بقیہ ادائیگی کا معاملہ ان کی عدالت میں زیر سماعت تھا۔ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کے علاوہ انہوں نے ڈی سی او بہاول پور کو بھی طلب کر رکھا تھا۔ مقررہ تاریخ سے 2 دن قبل میں اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل سے ملا اور انہیں آگاہ کیا کہ سیکرٹری بلدیات خضر گوندل نہیں آ رہے۔ ان کی جگہ مجھے پیش ہونا ہے۔ وہ سمجھ دار تھے اور کہنے لگے؛ "عدالت میں آپ نے کچھ نہیں بولنا۔ میں خود ہی جواب دوں گا۔"
یہ بھی پڑھیں: سیلاب کے باعث فیصل آباد، خانیوال سیکشن بند، متبادل روٹ پر اضافی ڈیزل استعمال
عدالت کی کارروائی
تاریخ والے دن ہم عدالت پہنچ گئے۔ جج کی زیر سماعت مقدمات میں آواز بمشکل سنائی دے رہی تھی مگر جیسے ہی ہماری باری آئی لگا وہ لاؤڈ سپیکر پر بول رہے تھے، بلکہ اسے بولنا نہیں دھاڑنا کہنا مناسب ہو گا۔ کمرے میں ان کی زوردار دھاڑ گونجی؛
"Is secretary local government here, has he brought the contractor's cheque."
اسسٹنٹ ایڈوکیٹ نے کہا؛ "سر! وہ تو نہیں آ سکے۔ وزیر اعلیٰ نے بلا لیا تھا۔ ڈی سی او اور ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ بہاول پور موجود ہیں۔"
اے اے جی کا جواب سن کر قاسم خاں بولے "کیوں نہ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کے وارنٹ جاری کئے جائیں۔ انہیں ہتھکڑی میں لایا جائے۔ غریب ٹھیکیدار کے پیسے ابھی تک نہیں دئیے۔"
یہ بھی پڑھیں: پشاور :کسٹم ہاؤس ٹاؤن روڈ پر فائرنگ ، ایک شخص جاں بحق
عدلیہ کا رویہ
وہ بولے جا رہے تھے کہ ڈی سی او بول پڑے؛ "سر! میں ڈی سی او بہاول پور ہوں۔ ادائیگی آج ہی کرنی تھی لیکن فنانس سے لیٹر۔۔۔" اتنا سننا تھا کہ وہ پھر دھاڑے؛ "ڈی سی او صاحب! آپ کی تنخواہ کیوں نہ بند کر دوں۔ آپ نے مذاق بنا رکھا ہے۔ آپ کے گھر دئیے جل رہے ہیں آپ کو غریب ٹھیکیدار کی پرواہ نہیں۔ 7 دن میں ادائیگی نہ ہوئی تو سب کو ہتھکڑی لگوا دوں گا۔" ٹھیکیدار کی ادائیگی کا چیک 3 دن بعد ہی عدالت میں جمع ہو گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہبازشریف اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی ملاقات کا اعلامیہ جاری
ججوں کی مہذبانہ رویہ
عدلیہ کے ججز کو مہذب رویہ اپنا چاہیے۔ میرے پھوپھی زاد بھائی اویس مظہر 1975 میں ایس ایس پی لاہور تھے۔ ایک بار انہیں بھی چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے عدالت میں بلا مخاطب کیا تھا۔ وہ بتاتے تھے؛ "یار! اس کے پی ایس کا فون آیا؛ "سر! آپ مرکزی گیٹ سے داخل ہوں گے۔ پورچ میں آپ کو ریسو کروں گا۔" مجھے چیف جسٹس صاحب کے ریٹائرنگ روم میں بٹھایا گیا۔ جج صاحب نے چائے پلائی اور جو پوچھنا تھا پوچھ کر عزت سے رخصت کر دیا۔ یار! اس دور میں جج بھی خاندانی ہوتے تھے۔"
یہ بھی پڑھیں: انگریزوں کی طرف سے ورثے میں دی گئی پٹریوں، پلوں اور سگنل کے نظام کو ہم بہتر نہیں کر سکے،درجنوں کے حساب سے برانچ لائنیں بندہو چکی ہیں
موجودہ صورتحال
ان کا آخری فقرہ بڑا معنی خیز تھا۔ اب تو جج اہلیت کی بنیاد پر کم اور تعلقات کی بنیاد پر زیادہ مقرر ہوتے ہیں۔ "تم میرے مفاد کا خیال کرو ہم تمہارے کا کریں گے"۔ دنیا کی سب سے زیادہ مراعات یافتہ عدلیہ انصاف دینے میں ایک سو تیسویں نمبر پر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملیر جیل سے فرار مزید قیدی گرفتار ، دیگر کی تلاش جاری
دوستی کی داستان
میرا یار عاطر محمود بھی کچھ عرصہ ہائی کورٹ بہاول پور بنچ کا ممبر رہا۔ کئی بار اس سے اس کے سرکاری گھر شام کو ملاقات ہو جاتی۔ گپ شپ لگاتے۔ ایک رات اسے صحرا کی کھانے پر بھی لے گیا تھا۔ چند وکلاء کو پتہ چلا کہ وہ میرا دوست ہے تو ان کے اصرار کے باوجود میں نے انہیں عاطر سے نہیں ملوایا تھا کہ یہ میری دوستی کے اصولوں کے خلاف بات تھی۔ قاسم خاں کے برعکس وہ دھیمے مزاج کا سلجھا ہوا جج تھا۔ میرا یار جو ٹھہرا۔ بعد میں عاطر لاہور سیٹ سے ریٹائر ہوا۔ (جاری ہے)
کتاب کا نوٹ
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








