عرب حکمرانوں کی شکار کے لیے پاکستان آمد، مقامی زمینداروں اور انتظامیہ کی اوچھی حرکات، سابق آئی جی ذوالفقار احمد چیمہ نے آشکار کر دیں
پاکستان میں عرب حکمرانوں کی آمد
لاہور (ویب ڈیسک) عرب حکمران شکار کے موسم میں پاکستان آتے ہیں اور اس کے لیے خصوصی جگہیں الاٹ کی جاتی ہیں۔ اس موقع پر سابق آئی جی ذوالفقار احمد چیمہ نے اپنی نئی کتاب "جہد مسلسل" میں مقامی زمینداروں اور انتظامیہ کی اوچھی حرکات کا ذکر کیا ہے، جو انہیں ایک منیجر نے بتائیں۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور میں چاند رات کو بینک ڈکیتی، ڈاکو 400 تولہ سونا اور 13 لاکھ ستر ہزار روپے نقدی لے اڑے
شیخ زید بن سلطان النہیان کا دورہ
وہ لکھتے ہیں کہ رحیم یار خان کی ایک امتیازی خاصیت یہ بھی تھی کہ یو اے ای کے حکمران شیخ زید بن سلطان النہیان یہاں سردیوں میں ایک مہینے کے لیے آتے تھے۔ یہاں ریگستان میں وہ شکار بھی کھیلتے اور موسم سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ شیخ زید کی آمد اور ان کی دلچسپی نے علاقے کی ترقی میں بڑا اہم کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے شہر میں ایک بہترین ہسپتال اور ہوائی اڈہ بھی بنوایا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بلدیاتی نظام کو کامیاب نہیں ہونے دیا جاتا، عوام کو حقوق بلدیاتی نمائندے ہی دے سکتے ہیں۔ منصفانہ انتخاب کیلئے طبقاتی نظام کو ختم کرنا ضروری ہے۔
بادشاہ کے محل کا دورہ
ایک بار بادشاہ کی آمد کے سلسلے میں سیکیورٹی کا جائزہ لینے کے لیے میں شہر سے قریباً 25 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع بادشاہ کے محل میں گیا، جہاں شاہی محل کے مینیجر نے مجھے تمام کمرے دکھائے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں دفعہ 144 کے تحت ڈرون، فینٹم اور کیم کوپٹر اڑانے پر پابندی
مقامی زمینداروں کی چالاکی
مینیجر نے ہنستے ہوئے یہ بھی بتایا: "سر! بادشاہ سلامت کی آمد سے تو پورے ضلع کی موج ہوجاتی ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "بادشاہ اور شاہی خاندان کی روایت ہے کہ وہ راستے میں کھڑے گداگروں کو پیسوں کی تھیلیاں اور مہنگی گھڑیاں دیتے تھے۔ لہٰذا یہاں کے مقامی زمیندار راستوں پر گداگروں کا روپ دھار کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔" بادشاہ یا شہزادے ہسپتال کا دورہ بھی کرتے ہیں اور مریضوں کو بھی بخشیش دے جاتے ہیں۔
مقامی انتظامیہ کی مداخلت
اس بخشیش کے حصول کے لیے مقامی مجسٹریٹ اور تھانیدار ایم ایس پر دباؤ ڈال کر مریضوں کے بستروں پر لیٹ جاتے ہیں اور ان سے مہنگے تحائف وصول کر کے گھر آجاتے ہیں۔








