عرب حکمرانوں کی شکار کے لیے پاکستان آمد، مقامی زمینداروں اور انتظامیہ کی اوچھی حرکات، سابق آئی جی ذوالفقار احمد چیمہ نے آشکار کر دیں
پاکستان میں عرب حکمرانوں کی آمد
لاہور (ویب ڈیسک) عرب حکمران شکار کے موسم میں پاکستان آتے ہیں اور اس کے لیے خصوصی جگہیں الاٹ کی جاتی ہیں۔ اس موقع پر سابق آئی جی ذوالفقار احمد چیمہ نے اپنی نئی کتاب "جہد مسلسل" میں مقامی زمینداروں اور انتظامیہ کی اوچھی حرکات کا ذکر کیا ہے، جو انہیں ایک منیجر نے بتائیں۔
یہ بھی پڑھیں: ورلڈ بینک کا پاکستان کو 40 ارب ڈالرز کی فراہمی کا اعلان، عملدرآمد فریم ورک پر کام شروع
شیخ زید بن سلطان النہیان کا دورہ
وہ لکھتے ہیں کہ رحیم یار خان کی ایک امتیازی خاصیت یہ بھی تھی کہ یو اے ای کے حکمران شیخ زید بن سلطان النہیان یہاں سردیوں میں ایک مہینے کے لیے آتے تھے۔ یہاں ریگستان میں وہ شکار بھی کھیلتے اور موسم سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ شیخ زید کی آمد اور ان کی دلچسپی نے علاقے کی ترقی میں بڑا اہم کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے شہر میں ایک بہترین ہسپتال اور ہوائی اڈہ بھی بنوایا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور بھارت کے درمیان ابھی تک براہ راست بات چیت نہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح اعلان کردیا
بادشاہ کے محل کا دورہ
ایک بار بادشاہ کی آمد کے سلسلے میں سیکیورٹی کا جائزہ لینے کے لیے میں شہر سے قریباً 25 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع بادشاہ کے محل میں گیا، جہاں شاہی محل کے مینیجر نے مجھے تمام کمرے دکھائے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی حلقوں میں ماہرہ اور فواد کے بیانات پر غصے کی لہر دوڑگئی، پابندی کا مطالبہ
مقامی زمینداروں کی چالاکی
مینیجر نے ہنستے ہوئے یہ بھی بتایا: "سر! بادشاہ سلامت کی آمد سے تو پورے ضلع کی موج ہوجاتی ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "بادشاہ اور شاہی خاندان کی روایت ہے کہ وہ راستے میں کھڑے گداگروں کو پیسوں کی تھیلیاں اور مہنگی گھڑیاں دیتے تھے۔ لہٰذا یہاں کے مقامی زمیندار راستوں پر گداگروں کا روپ دھار کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔" بادشاہ یا شہزادے ہسپتال کا دورہ بھی کرتے ہیں اور مریضوں کو بھی بخشیش دے جاتے ہیں۔
مقامی انتظامیہ کی مداخلت
اس بخشیش کے حصول کے لیے مقامی مجسٹریٹ اور تھانیدار ایم ایس پر دباؤ ڈال کر مریضوں کے بستروں پر لیٹ جاتے ہیں اور ان سے مہنگے تحائف وصول کر کے گھر آجاتے ہیں۔








