1۔ 8 فروری کو پہیہ جام، شٹرڈاؤن ہڑتال ضرور ہوگی، فیصلہ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے کیا، شوکت یوسفزئی
پی ٹی آئی کے رہنما شوکت یوسفزئی کا بیان
اسلام آباد(آئی این پی) پی ٹی آئی کے رہنما شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ 8 فروری کو پہیہ جام شٹرڈاؤن ہڑتال ضرور ہوگی۔ یہ فیصلہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے کیا گیا ہے۔ ہڑتال کی کامیابی پی ٹی آئی کی ذمہ داری ہے۔ ہڑتال میں ٹائر جلانا اور سڑکیں بلاک کرنا نہیں ہوگا۔ اگر ہمیں پرامن احتجاج کا حق بھی نہیں دیا جائے گا تو ہم جمہوری ملک کیسے کہلائیں گے؟
یہ بھی پڑھیں: آئی سی سی نے پی سی بی کا مطالبہ مسترد کرنے کا فیصلہ کرلیا، کرکٹ ویب سائٹ کا دعویٰ
ہڑتال کے مقاصد اور حالات
ایک انٹرویو میں، انہوں نے کہا کہ پہیہ جام ہڑتال کی کال تو دی گئی ہے لیکن تیاری ابھی مکمل نہیں ہے۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے احتجاج کی کال دی ہے، اور پی ٹی آئی اس کو سپورٹ کرے گی۔ پرامن احتجاج کی اہمیت یہ ہے کہ اگر لوگ باہر نہ نکلیں اور صرف گھروں میں رہیں، تو یہ بھی بڑی کامیابی ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی لڑکے نے غیر ملکی خاتون سے شادی کے لیے انکار کردیا
احتجاج کے خلاف کریک ڈاؤن
پنجاب اور سندھ میں ورکرز کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کردیا گیا ہے۔ سندھ میں 3 ایم پی او کے تحت گرفتاریاں کی گئیں جبکہ پنجاب میں لوگوں کے گھروں پر چھاپے مارے جارہے ہیں۔ اگر ملک میں پرامن احتجاج کا حق نہیں دیا جارہا تو ہمیں جمہوری ملک ہونے کا کیا حق ہے؟ ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ عمران خان سے ملاقات ہونی چاہئیے، لیکن ابھی تک ایسا نہیں ہورہا۔
ملک کے اقتصادی حالات
ان کا کہنا تھا کہ ملک انارکی کی طرف جارہی ہے اور معاشی طور پر کمزور ہوچکا ہے۔ سرمایہ کاری کے بڑے دعوے کیے جا رہے ہیں، لیکن ابھی تک سرمایہ کاری نہیں آئی۔ 8 فروری کو پہیہ جام اور شٹرڈاؤن ہڑتال ہوگی۔ ہڑتال کا فیصلہ تحریک تحفظ نے کیا ہے، جبکہ پی ٹی آئی کل اس پر فیصلہ کر کے ہڑتال کو کامیاب بنانے کی ذمہ داری لے گی۔ لوگ سڑکوں پر نکلیں گے لیکن ٹائر جلانا اور سڑکیں بلاک کرنا نہیں ہوگا۔ میری ذاتی رائے ہے کہ میں پہیہ جام ہڑتال کے حق میں نہیں ہوں، کیونکہ اس سے ملک کو نقصان ہوتا ہے۔








