عمران خان کی بڑی سیاسی خدمت متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی قیادت کو آگے بڑھانا ہے، ایسی قیادت جس نے اشرافیائی کرپشن سسٹم کا حصہ بننے سے انکار کیا، نورین نیازی
نورین نیازی کی قاسم خان سوری سے فخر کا اظہار
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ نورین نیازی کا کہنا ہے مجھے قاسم خان سوری پر بے حد فخر ہے۔ قومی اسمبلی کے سابق ڈپٹی اسپیکر ہونے کے باوجود انہوں نے شدید ذاتی قربانیاں اور کٹھن حالات جھیلے، مگر آج وہ امریکا میں ایک اوبر ڈرائیور کے طور پر پوری عزتِ نفس اور وقار کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ نے اسرائیل کو ’موت کا فرقہ‘ قرار دینے والے اعلیٰ افسر کو حساس مشاورتی عہدے سے ہٹا دیا
ان کے کردار کی مثال
اپنے ایکس بیان میں انہوں نے کہا کہ جلاوطنی میں آرام اور مفاد کے بدلے اپنے اصولوں پر سمجھوتہ کرنے کے بجائے محنت کے ذریعے ایک باعزت، حلال روزی کمانے کا انتخاب کرنا ان کے کردار، استقامت اور غیرت کی روشن مثال ہے۔ یہی وہ دیانت ہے جو آزمائش کے وقت پہچانی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سرمایہ کاروں کی عدم دلچسپی، سی ڈی اے مہنگے پلاٹس سستے داموں فروخت کرنے پر مجبور
عمران خان کی سیاسی خدمات
نورین نیازی نے مزید کہا کہ عمران خان کی سب سے بڑی سیاسی خدمت یہ ہے کہ انہوں نے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی قیادت کو آگے بڑھایا، ایسی قیادت جو اپنی جڑوں سے جڑی رہی اور اس اشرافیائی کرپشن سسٹم کا حصہ بننے سے انکار کیا جس نے دہائیوں سے پاکستان کی سیاست کو کھوکھلا کر رکھا ہے۔ مسلسل دباؤ، سازشی بحرانوں اور بے مثال رکاوٹوں کے باوجود، عمران خان کی حکومت ہمارے ملک کی تاریخ کی شفاف ترین حکومتوں میں شمار ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایف آئی اے کی کارروائی، لیبیا کشتی حادثے کے اہم ملزم بشیر احمد کو گرفتار کر لیا گیا
موقع پرستوں کا استثنا
یہ درست ہے کہ جب آزمائش کا وقت آیا تو چند موقع پرست اپنے ناجائز مفادات کو بچانے کے لیے خان کا ساتھ چھوڑ گئے، مگر تاریخ انہیں ایک استثنا کے طور پر یاد رکھے گی—قاعدے کے طور پر نہیں۔
سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم پر اظہار خیال
مجھے قاسم خان سوری پر بے حد فخر ہے۔ قومی اسمبلی کے سابق ڈپٹی اسپیکر ہونے کے باوجود انہوں نے شدید ذاتی قربانیاں اور کٹھن حالات جھیلے، مگر آج وہ امریکہ میں ایک اوبر ڈرائیور کے طور پر پوری عزتِ نفس اور وقار کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ جلاوطنی میں آرام اور مفاد کے بدلے اپنے اصولوں…
— Noreen Khanum (@noreen_khanum) February 5, 2026








