کچھ لوگ پارٹی میں عہدہ لے کر آتے ہیں اور کچھ صرف رشتہ، مگر المیہ یہ ہے کہ عہدہ تو بے چارے آئین کی پیداوار ہوتا ہے، جبکہ رشتہ خود کو آئین کا ’’ایڈمن‘‘ اور کارکنوں کا ’’تھانیدار‘‘ سمجھنے لگتا ہے، شیر افضل مروت۔

سیاسی عہدوں اور رشتوں کا المیہ

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) رکن اسمبلی شیر افضل مروت کا کہنا ہے کچھ لوگ پارٹی میں عہدہ لے کر آتے ہیں اور کچھ صرف رشتہ، مگر المیہ یہ ہے کہ عہدہ تو بے چارے آئین کی پیداوار ہوتا ہے، جبکہ رشتہ خود کو آئین کا ’’ایڈمن‘‘ اور کارکنوں کا ’’تھانیدار‘‘ سمجھنے لگتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی جیل میں بہت فرسٹریٹڈ ہیں، انجینئر محمد علی مرزا

خاندانی نگران سیل کی تشکیل

اپنے ایکس بیان میں انہوں نے کہا کہ آج کل پارٹی میں ایک نیا، خود ساختہ "خاندانی نگران سیل" متحرک ہے، جس کا کام پالیسی بنانا نہیں بلکہ یہ چیک کرنا ہے کہ کون کتنا ڈرا ہوا ہے اور کس کی گردن میں ابھی "اختلاف" کا سریا باقی ہے۔ کمال کی بات یہ ہے کہ جنہوں نے کبھی کارکنوں کے ساتھ گرمی، سردی یا آنسو گیس کا ایک قطرہ تک نہیں دیکھا، وہ آج وفاداری کے ہول سیل ڈیلر بنے بیٹھے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے پارٹی آفس نہیں، کسی جاگیردار کی بیٹھک ہو جہاں فیصلے دلیل سے نہیں بلکہ "گھریلو ڈسپنسری" سے جاری ہوتے ہیں۔ کچھ بہنیں تو ایسی ہیں جنہوں نے بھائی کے نام پر اتنا رعب جما رکھا ہے کہ کارکن پریشان ہے کہ وہ کسی سیاسی تحریک کا حصہ ہے یا کسی "خاندانی عدالت" کا قیدی؟

یہ بھی پڑھیں: محمد صدیق شیخ نے پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ممبر کے طور پر حلف اٹھا لیا

وفاداری کا نرالا پیمانہ

شیر افضل مروت نے مزید کہا کہ یہاں وفاداری کا پیمانہ بھی بڑا نرالا ہے: جو خاموش رہے وہ وفادار، جو سوال کرے وہ مشکوک، اور جو اصول کی بات کرے وہ غدار! حالانکہ سیاست میں اختلافِ رائے نمک کی طرح ہوتا ہے، مگر یہاں کے "تھانیداروں" نے نمک کو ہی جرمِ سنگین بنا دیا ہے۔ یہ ایک سیاسی جدوجہد ہے، کسی خاندانی وراثت کا گوشوارہ نہیں کہ جس کا جی چاہے وہ کارکنوں کو اپنی "سپروائزری" کے ڈنڈے سے ہانکنا شروع کر دے۔

یہ بھی پڑھیں: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی بنگلادیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس سے ملاقات

پی ٹی آئی میں واپسی کی شرائط

انہوں نے کہا کہ میرے لیے پی ٹی آئی میں واپسی اس وقت تک "حرام" ہے جب تک ان "تھانیدارنیوں" کا یہ خود ساختہ راج قائم ہے۔ خان صاحب کے لیے اب بہترین راستہ یہی ہے کہ وہ اپنی ان "سیاسی نگرانوں" کو ہمیشہ کے لیے خاموش کرائیں اور انہیں ڈرائنگ روم تک محدود کریں، ورنہ کارکن نظریے کی تلاش میں آئے گا اور ان کی "تھانیداری" دیکھ کر واپس لوٹ جائے گا۔

عوامی خدمت اور اختیار

شیر افضل مروت نے مزید کہا کہ رشتہ سر آنکھوں پر، مگر اختیار ہمیشہ آئین اور عوامی خدمت سے آتا ہے۔ پارٹی کو اس وقت رہنمائی کی ضرورت ہے، تھانیداری کی نہیں۔ اعتماد ڈرا کر نہیں، بلکہ کما کر حاصل کیا جاتا ہے۔ ورنہ کارکن یہی سوچے گا کہ وہ جلسے میں نظریے کی خاطر آیا ہے یا کسی کی خاندانی وراثت کے حاضری رجسٹر پر انگوٹھا لگانے۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...