کچھ لوگ پارٹی میں عہدہ لے کر آتے ہیں اور کچھ صرف رشتہ، مگر المیہ یہ ہے کہ عہدہ تو بے چارے آئین کی پیداوار ہوتا ہے، جبکہ رشتہ خود کو آئین کا ’’ایڈمن‘‘ اور کارکنوں کا ’’تھانیدار‘‘ سمجھنے لگتا ہے، شیر افضل مروت۔
سیاسی عہدوں اور رشتوں کا المیہ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) رکن اسمبلی شیر افضل مروت کا کہنا ہے کچھ لوگ پارٹی میں عہدہ لے کر آتے ہیں اور کچھ صرف رشتہ، مگر المیہ یہ ہے کہ عہدہ تو بے چارے آئین کی پیداوار ہوتا ہے، جبکہ رشتہ خود کو آئین کا ’’ایڈمن‘‘ اور کارکنوں کا ’’تھانیدار‘‘ سمجھنے لگتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پیریٹونیئل ڈائلیسس: گھر پر گردوں کی صفائی کا بے درد طریقہ
خاندانی نگران سیل کی تشکیل
اپنے ایکس بیان میں انہوں نے کہا کہ آج کل پارٹی میں ایک نیا، خود ساختہ "خاندانی نگران سیل" متحرک ہے، جس کا کام پالیسی بنانا نہیں بلکہ یہ چیک کرنا ہے کہ کون کتنا ڈرا ہوا ہے اور کس کی گردن میں ابھی "اختلاف" کا سریا باقی ہے۔ کمال کی بات یہ ہے کہ جنہوں نے کبھی کارکنوں کے ساتھ گرمی، سردی یا آنسو گیس کا ایک قطرہ تک نہیں دیکھا، وہ آج وفاداری کے ہول سیل ڈیلر بنے بیٹھے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے پارٹی آفس نہیں، کسی جاگیردار کی بیٹھک ہو جہاں فیصلے دلیل سے نہیں بلکہ "گھریلو ڈسپنسری" سے جاری ہوتے ہیں۔ کچھ بہنیں تو ایسی ہیں جنہوں نے بھائی کے نام پر اتنا رعب جما رکھا ہے کہ کارکن پریشان ہے کہ وہ کسی سیاسی تحریک کا حصہ ہے یا کسی "خاندانی عدالت" کا قیدی؟
یہ بھی پڑھیں: بابو سرسیلاب میں لاپتہ ڈاکٹر سعد کے بیٹے کی لاش مل گئی
وفاداری کا نرالا پیمانہ
شیر افضل مروت نے مزید کہا کہ یہاں وفاداری کا پیمانہ بھی بڑا نرالا ہے: جو خاموش رہے وہ وفادار، جو سوال کرے وہ مشکوک، اور جو اصول کی بات کرے وہ غدار! حالانکہ سیاست میں اختلافِ رائے نمک کی طرح ہوتا ہے، مگر یہاں کے "تھانیداروں" نے نمک کو ہی جرمِ سنگین بنا دیا ہے۔ یہ ایک سیاسی جدوجہد ہے، کسی خاندانی وراثت کا گوشوارہ نہیں کہ جس کا جی چاہے وہ کارکنوں کو اپنی "سپروائزری" کے ڈنڈے سے ہانکنا شروع کر دے۔
یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی میں 2آرڈیننس،7بلز اورقائمہ کمیٹی خزانہ کی رپورٹ پیش کردی گئی
پی ٹی آئی میں واپسی کی شرائط
انہوں نے کہا کہ میرے لیے پی ٹی آئی میں واپسی اس وقت تک "حرام" ہے جب تک ان "تھانیدارنیوں" کا یہ خود ساختہ راج قائم ہے۔ خان صاحب کے لیے اب بہترین راستہ یہی ہے کہ وہ اپنی ان "سیاسی نگرانوں" کو ہمیشہ کے لیے خاموش کرائیں اور انہیں ڈرائنگ روم تک محدود کریں، ورنہ کارکن نظریے کی تلاش میں آئے گا اور ان کی "تھانیداری" دیکھ کر واپس لوٹ جائے گا۔
عوامی خدمت اور اختیار
شیر افضل مروت نے مزید کہا کہ رشتہ سر آنکھوں پر، مگر اختیار ہمیشہ آئین اور عوامی خدمت سے آتا ہے۔ پارٹی کو اس وقت رہنمائی کی ضرورت ہے، تھانیداری کی نہیں۔ اعتماد ڈرا کر نہیں، بلکہ کما کر حاصل کیا جاتا ہے۔ ورنہ کارکن یہی سوچے گا کہ وہ جلسے میں نظریے کی خاطر آیا ہے یا کسی کی خاندانی وراثت کے حاضری رجسٹر پر انگوٹھا لگانے۔
کچھ لوگ پارٹی میں عہدہ لے کر آتے ہیں اور کچھ صرف رشتہ، مگر المیہ یہ ہے کہ عہدہ تو بے چارے آئین کی پیداوار ہوتا ہے، جب کہ رشتہ خود کو آئین کا "ایڈمن" اور کارکنوں کا "تھانیدار" سمجھنے لگتا ہے۔ آج کل پارٹی میں ایک نیا، خود ساختہ "خاندانی نگران سیل" متحرک ہے، جس کا کام پالیسی بنانا…
— Sher Afzal Khan Marwat (@sherafzalmarwat) February 5, 2026








