بلوچستان کا حل عسکری نہیں سیاسی ہے، مصنوعی قیادت مخدوش صورتحال کے بنفیشری ہے اس لئے وہ سیاسی حل کے بجائے عسکری حل کے قائل ہے، حافظ حمداللہ
بلوچستان کا سیاسی حل
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) جے یو آئی ف کے رہنما حافظ حمد اللہ کا کہنا ہے کہ جے یو آئی طاقت اور تشدد کی حامل سوچ اور ذہنیت پر یقین نہیں رکھتی، لہذا بلوچستان کا حل عسکری نہیں سیاسی ہے۔ مصنوعی قیادت مخدوش صورتحال کے بنفیشری ہے، اس لئے وہ سیاسی حل کے بجائے عسکری حل کے قائل ہیں تاکہ وہ ہمیشہ کے لئے اقتدار میں رہ سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی کی ساری توجہ غیرقانونی مطالبے پر مرکوز ہے؛عطا اللہ تارڑ
مصنوعی قیادت کی تباہی
اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ مصنوعی سیاسی قیادت کی چاہت یہ ہے کہ ریاست، ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد کا فقدان برقرار رہے تاکہ یہ اندر رہے اور حقیقی سیاسی قیادت باہر رہے۔ میں ریاست اور ریاستی اداروں سے گذارش کرتا ہوں کہ ان مفاد پرستوں اور اقتدار پرستوں کی دو رنگی پر اعتماد نہ کریں، یہ بلوچستان کے عوام کے نمائندے نہیں ہیں۔
عوام اور ریاست کے درمیان دوری
جب تک عوام اور ریاست و ریاستی اداروں کے درمیان دوری اور نفرت ہوگی، اتنا ہی ریاستی اداروں کے خلاف عدم اعتماد میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ یہ مصنوعی لوگ آپ کے کندھوں پر بیٹھ کر اقتدار سے محظوظ ہوتے رہیں گے، لیکن بدنامی ریاست اور ریاستی اداروں کی ہو گی، اور اس کے ساتھ ساتھ نقصان ملک اور بلوچستان کے عوام کا ہوگا۔
جے یو آئی طاقت اور تشدد کی حامل سوچ اور ذہنیت پر یقین نہیں رکھتی۔۔لہذا بلوچستان کا حل عسکری نہیں سیاسی ہے۔مصنوعی قیادت مخدوش صورتحال کے بنفیشری ہے اس لئے وہ سیاسی حل کے بجائے عسکری حل کے قائل ہے۔۔تاکہ وہ ہمیشہ کے لئے اقتدار میں رہے۔۔مصنوعی سیاسی قیادت کی چاہت یہ ہے کہ ریاست
+— Hafiz Hamdullah (@iHafizHamdullah) February 5, 2026








